غیر ملکی سرمایہ کاری کی خواہش

[post-views]
[post-views]

ہماری ڈوبتی ہوئی معیشت کو بچانے کے لیےایک نیا عملہ تفویض کیا گیا ہے، لیکن یہ نیا عملہ تباہ کن طوفان سے گزرنے کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ واضح طور پر، بہت کم۔ اگرچہ نئی ”اسپیشل سرمایہ کاری سہولت کونسل“ نظریہ کے لحاظ سے بہت اچھی لگتی ہے، لیکن یہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے محض ایک طریقہ کار پیش کرکے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے معیشت کا استحکام بہت ضروری ہے، ان حالات میں کوئی بھی سرمایہ کار خواہ وہ ملکی ہو یا غیر ملکی، ملک میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہے۔ ”اسپیشل سرمایہ کاری سہولت کونسل“ کو اس ملک میں کاروبار کرنے کے طریقے میں ایک بنیادی تبدیلی کا وعدہ کرنا ہوگا۔ بدقسمتی سے، جیسا کہ پی ڈی ایم حکومت کے اگلے مالی سال کے غیر تصوراتی بجٹ نے مشکل کھڑی کی ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے سے پہلے اپنے گھر کو ترتیب دینے کی خواہش بہت کم  دکھائی دے رہی ہے۔ بنیادی طور پر یہ وہی چیز ہے جس کی وجہ سے منصوبہ انقلابی کے بجائے اجنبی دکھائی دیتا ہے۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.


پاکستان نے جولائی 2022 سے مئی 2023 تک کے 11 ماہ کے عرصے میں صرف 1.3 بلین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی۔ اسی عرصے میں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ان کی ملک سے باہر کی گئی سرمایہ کاری سے منافع حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔ کم از کم 1 بلین ڈالرمنافع کو حکومت نے اس عرصے میں واپس بھیجنے سے روک دیا تھا۔ یہ حد اس لیے لگائی گئی کیونکہ حکومت کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی برآمدات اور ترسیلات زر میں مسلسل کمی کی وجہ سے زرمبادلہ ختم ہو رہا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ان پالیسیوں کی ناکامیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا جو مکمل طور پر حکومت کی اپنی تھیں۔اب، اس ساری صورتحال کے بعد کیا حکومت غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کر پائے گی؟ یہ ایک سنجیدہ صورتحال ہے۔

وزیر اعظم نے منگل کو ایک ٹویٹ میں کہا  کہ”اسپیشل سرمایہ کاری سہولت کونسل کا مقصد فوری طورپر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو 5بلین ڈالر تک بڑھانا ہے“۔ یہ سالانہ ایف ڈی آئی کی سطح سے تین گنا زیادہ ہے جس کی توقع سبکدوش ہونے والے مالی سال کے اختتام تک ریکارڈ کی جائے گی۔

آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

 اگر  ملک تین گنا زیادہ سرمایہ کاری کو راغب کرنا چاہتا ہے توحالات بھی کاروبار کرنے کے لیے کم از کم تین گنا بہتر ہونے چاہییں، لیکن حال ہی میں اسلام آباد کی ترجیحات کچھ اور ہی نظر آتی ہیں۔ ہمارے سینیٹرز نے اس ہفتے ایسی قانون سازی کی ہے جس کےتحت سینیٹ کے موجودہ اور سابقہ چیئرپرسن کو غیر معمولی نئی مراعات سے نوازا گیا ہے۔ یہ مراعات ملک کے تیزی سے ختم ہونے والے وسائل کی قیمت پر آئیں گی۔ کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار ایسے ملک میں اپنا پیسہ  نہیں ڈوبنا قبول کرے گا جو اپنی حقیقت کی حدود کا احترام نہیں کرتا؟ یہ غور کرنے کے لیے اہم نکتہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos