بھارت میں ہندوتوا کے غلبے پر مبنی سیاسی بیانیہ اقلیتی برادریوں کے لیے شدید تشویش اور عدم تحفظ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ خالصتان تحریک سے وابستہ رہنماؤں نے موجودہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجود ماحول میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور تاریخی علامات کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے خالصتان تحریک اور سکھس فار جسٹس کے نمایاں رہنما نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات سے متعلق بھارتی حکومت کا طرزِ عمل اشتعال انگیز ہے، اور کچھ اقدامات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نے ایک قدیم عبادت گاہ کی مسماری کو قومی تقریب اور سیاسی مظاہرے کی شکل دے کر اقلیتوں میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
سکھ رہنما گرپتونت سنگھ نے مسلمانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوتوا نظریات نے بھارت میں مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے اور اقلیتوں کے تشخص کو خطرات لاحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا عناصر نے بعض مذہبی مقامات کو طاقت کا مظاہرہ بنانے کی کوشش کی ہے، جس سے ملک میں تقسیم اور تشدد کے رجحانات کو تقویت مل رہی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ مستقبل میں اگر خطے میں سیاسی نقشہ بدلتا ہے تو وہ اس بات کے حامی ہیں کہ مذہبی مقامات کی اصل حیثیت بحال کی جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی ریاست میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کو روکنے کے لیے اقلیتوں کو باہمی یکجہتی اور ذمہ دارانہ ردِعمل کی ضرورت ہے، تاکہ انہیں اپنے عقائد اور تاریخی ورثے کے تحفظ کا موقع مل سکے۔
سکھ رہنما نے کہا کہ تاریخ کو طاقت یا دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی مذہبی شناخت کو سیاسی ایجنڈے کے تحت مٹا یا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بعض مذہبی تنازعات کو سیاسی بنیاد پر ابھارنے سے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران بڑھتی ہوئی نفرت، مذہبی تعصب اور اقلیت مخالف جذبات اس بات کی علامت ہیں کہ شدت پسندی سیاسی سوچ پر غالب آ رہی ہے، جس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔












