آئین میں درج بنیادی حقوق کی محافظ عدلیہ ہے۔ آرٹیکل 199 کے تحت بنیادی حقوق کا نفاز عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ عدلیہ کو یہ اختیارات اس لیے دیے گئے ہیں کہ وہ ایگزیکٹو ایک سیس کو روکے۔
آئین کے آرٹیکل آٹھ کے مطابق کوئی بھی قانون ، قانون سازی یا انتظامی قانون بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کریمنل پروسیجر کوڈ کا سیکشن 144 ہو یا انتظامی پبلک آرڈرآرڈیننس, 1960 ہو ، یہ قوانین بنیادی حقوق کو سبوتاژ نہیں کر سکتے۔
اس لیے یہ صوبائی ہائی کورٹس کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کریں۔ اس سلسلے میں عدالت عالیہ کو سوموٹو لینا چاہیے اور چیف سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی جی کو پابند کرنا چاہیے کہ انسانی حقوق کسی صورت پامال نہ ہوں۔ اگر ہائی کورٹ سوموٹو نہیں لیتی تو سپریم کورٹ 184 (3) کے تحت پبلک انٹرسٹ میں بنیادی انسانی حقوق بمعہ انٹرنیٹ کی بحالی کو یقینی بنائے ۔
اگر عدلیہ سوموٹو نہیں لیتیں تو بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں ، وکلاء ، سیاسی جماعتوں اور شہریوں کو عدالت میں کثیر تعداد میں پٹیشن ڈالنی چاہیں ۔ وطن عزیز کے شہریوں کے لیے عرض ہے کہ پاکستان میں سینکڑوں این جی اوز انسانی حقوق کے نام پر کام کررہی ہیں مگر شاید ہی کوئی این جی او جو کہ فنڈنگ کے علاؤہ بھی انسانی حقوق کے لیے سرگرم ہو۔
ریپبلک پالیسی









