حسنِ ظن اور حسنِ زن


نا واقف لوگ ان کے بارے میں حسن ِظن رکھتے تھے کہ وہ اعلی کردار آدمی ہیں مگر وہ مستور حسن ِزن دیکھنے کے لیے کہیں بھی ،کسی بھی وقت انتہائی پستی میں گر جاتے تھے۔واقفان حال جانتے تھے کہ وہ اوائل نوجوانی سے ہی نازیبا حرکات کے شوقین تھے مگر ان کی سب سے پسندیدہ حرکت نظر بازی تھی۔ بس ایک پچھتاوا تھا کہ کاش فوٹو گرافی سیکھ لیتے اوردلہنوں کی فوٹو گرافی کیا کرتے۔ انہوں نے کوئی ایسی جگہ نہ چھوڑی جہاں خواتین اور طفلان نو عمر کو تا کا جا سکتا ہو۔ کہتے ” امیر آدمی کا مسئلہ کثرت گناہ ہے اور میرا مسئلہ حسرت گناہ ہے”۔ جس گندی نظر سے دوشیزاؤں کو دیکھتے تھے،کم عمر بچوں کو بھی ویسی خبیث نظروں سے تاکتے تھے۔ اردو فارسی کے وہ تمام اشعار انہیں یاد تھے جہاں محبوب لڑکا یا لڑکی ہوتا ہے۔ میر کا ایک شعر تو لہک لہک کر گاتے رہتے تھے؎۔
میرؔ کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب۔۔۔۔۔”۔ چاند رات کو ہر اس بازار جاتے تھے جہاں خواتین اور بچے بچیاں شاپنگ کے لیے جاتے تھے ۔کم عمرمیں لاحق ہو نے والی عادات بڑے ہونے کے ساتھ بڑی ہو گئی۔گندی باتیں اور گندے کام کر کے بہت خوش ہوتے تھے۔ شادی کے نام سے دور بھاگتے تھے اوائل عمر سے ہی ہر اس سینما کا پتہ جانتے تھے جہاں غیر اخلاقی فلمیں چلتی تھیں۔ انٹرنیٹ کا دور آیا تو دن رات کسی نیٹ کیفے میں بیٹھ کر فحش فلمیں دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک ٹیکنا لوجی کی ترقی کا مطلب فحش فلمیں دیکھنے میں آسانی کے سوا کچھ نہ تھا۔ خبیث انہ زندگی سے خوش تھے ۔ وقت بے حیائی کرتے یا بے حیائی کے بارے سوچتے گزرتا تھا۔ شعور نہ تھا کہ جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانا چاہتے ہیں،ان کیلیے درد ناک عذاب ہے۔سورۃ نور کی آیت کا مفہوم ہے: “اے اہل ایمان! شیطان کے پیچھے نہ چلو جو کوئی شیطان کے قدموں کی پیروی کرے گا تو وہ بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم دے گا۔ اور اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاک فرماتا ہے، اور اللہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا اور علم والا ہے”۔ارشاد ہے:- ” اے بنی آدم! شیطان تمہیں کسی فتنے میں نہ ڈال دے ، جیسے اس نے تمہارے ابا اور اماں کو جنت سے نکلوا دیا۔ ان سےان کے لباس اتروادیے اور شرمگاہیں ظاہر کر دیں”۔
فرمان ہے:-“کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے فحش کام خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ حرام کر دیے ہیں”۔ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:-“جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں کے گروہ میں بے حیائی پھیل جائے تو ان کے لیے درد ناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی”۔”رسول اللہ صل اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: “اللہ کی قسم میں غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے سے بھی زیادہ غیور ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی غیرت یہ ہے کہ اس نے فحش کاموں (بے شرمی ، بے حیائی اور بدکاری) سے منع فرمایا ہے “۔
ایک اور حدیث میں ہے :-“مومن فحاشی ( بے غیرتی کے کام) کا دلدادہ نہیں ہوسکتا۔“ فرمایا “جب تو حیا کھو دے تو پھر جو جی میں آئے کر”۔ حدیث پاک ہے”حیا ایمان کا حصہ ہے۔اور ایمان جنت میں ہے اور بے شرمی ظلم کا حصہ ہے ۔ظلم جہنم میں ہے”۔ایک اور حدیث میں ہے ” حیا خیر ہی لاتی ہے”۔
اللہ تعالی نےمسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ بے حیائی کے قریب بھی مت جا ئیں۔اسلام انسان سے تنہائی میں بھی پاکیزگی کا مطالبہ کرتا ہے۔جو لوگ غیر فطری جنسی رویوں کا شکار ہوتے ہیں، انہیں اپنا علاج کروانا چاہیے”۔روحانی اور نفسیاتی علاج۔سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: “ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے زنا کی اجازت دیجیے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اسے ڈانٹ ڈپٹ کی اور کہا: اوئے رک جا، اوئے رک جا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا قریب ہو۔“ وہ آپ کے قریب آیا اور بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”کیا تم اس چیز کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: مجھے اللہ آپ پر قربان کرے، نہیں، اللہ کی قسم! (‏‏‏‏نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ بھی اپنی ماؤں کے لیے اس (‏‏‏‏خباثت) کو پسند نہیں کرتے، (‏‏‏‏ اچھا یہ بتاؤ کہ) کیا تم اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرو گے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر قربان ہوں، نہیں، اللہ کی قسم! (‏‏‏‏ نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح لوگ ہیں کہ وہ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں، (‏‏‏‏ اچھا یہ بتاؤ کہ) کیا تم اسے اپنی بہن کے لیے پسند کرو گے؟“ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کر دے، نہیں، اللہ کی قسم! (‏‏‏‏نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ بھی اس چیز کو اپنے بہنوں کے لیے ناپسند کرتے ہیں، (‏‏‏‏اچھا یہ بتاؤ کہ) کیا تم اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں آپ پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری طرح لوگ بھی اپنے پھوپھیوں کے لیے اسے ناپسند کرتے ہیں، (‏‏‏‏اچھا یہ بتاؤ کہ) کیا تم اسے اپنی خالہ کے لیے پسند کرو گے؟“ اس نے کہا: میں آپ پر قربان ہوں، نہیں، اللہ کی قسم! (‏‏‏‏نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ بھی اس چیز کو اپنی خالاؤں کے لیے ناپسند کرتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور یہ دعا دی: ”اے اللہ! اس کے گناہ بخش دے اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔“ اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا”۔

Pl, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

بد قسمتی سے ہمارے ہاں شوال کا چاند نظر آتے ہی کئی لوگ اپنے نفس کے درند ےکو کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔چاند رات کو ہر غیر شرعی اورغیر اخلاقی کام کیا جاتا ہے جبکہ عید منانے کا اصل جذبہ خالق کائنات کا شکر ادا کرنا ہے۔ اسلامی طریقہ سے تفریح کرنا ہے۔آئیے! عید سچے مسلمانوں کی طرح منائیں
ليس العبد لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِيدَ
إِنَّمَا الْعِيْدُ لِمَنْ خَافَ الْوَعِيْدَ

(عید اس کی نہیں جس نے نئے کپڑے پہن لیے، بلکہ عید تو اس کی ہے جو عذاب سے ڈر گیا ( اور اسے امن مل گیا ) ۔
لَيْسَ الْعِيْدُ لِمَنْ تَبَخَرَ بِالْعُوْدِ
إِنَّمَا الْعِيدُ لِلتَّالِبِ الَّذِي لَا يَعُودُ
(عید اس کی نہیں جو عود و عطریات سے خوشبو حاصل کرلے بلکہ عید تو اس کی ہے جو ایسی تو بہ کرے کہ پھر گناہ کی طرف نہ لوٹے”)۔
لَيْسَ الْعِبْدُ لِمَنْ زَيَّنَ بِزِيْنَةِ الدُّنْيَا
إِنَّمَا الْعِيْدُ لِمَنْ تَزَوَّدَ بِزَادِ التَّقْوَى
(عید اس کی نہیں جو آرائش دنیا سے مزین ہو بلکہ عید تو اس کی ہے
جو تقوی کو زادِ آخرت بنالے”)۔
لَيْسَ الْعِيْدُ لِمَنْ ركب المطايا
الْعِيْدُ لِمَنْ تَرَكَ الْخَطَايَا
(عید اس کی نہیں جو قیمتی سواریوں پر سوار ہو۔ عید تو اس کی ہے جس نے گناہوں کو ترک کر دیا)۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos