اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستانی حکام سے کہا ہے کہ وہ تعمیراتی شعبے کے لیے ٹیکس کے خصوصی نظام کو ختم کرنے کے علاوہ مزید کام کریں۔
فنڈ نے پاکستانی حکام کو ہدایت کی کہ وہ غیر منافع بخش تنظیموں کے لیے ٹیکس چھوٹ کو منسوخ کریں اور خیراتی اداروں کو دی جانے والی ٹیکس مراعات کا دوبارہ جائزہ لیں۔
آئی ایم ایف نے ٹیکس جمع کرنے والوں اور کابینہ کے ارکان کے صوابدیدی اختیارات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وفاق سے ٹیکسوں کی وصولی اور صوبائی ٹیکس قوانین کے نفاذ کے لیے صوبوں سے تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ آئی ایم ایف نےوزارت خزانہ میں ٹیکس پالیسی یونٹ کے قیام کی بھی سفارش کی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر اداروں کے درمیان ڈیٹا کی منتقلی کا ایک جامع نظام فوری طور پر قائم کرنے کی سفارش کی گئی۔
آئی ایم ایف ٹیم کو بریفنگ دی گئی کہ اسپانسر شپ پروگرام کے تحت 9.3 ملین افراد کو ادائیگیوں کے لیے ایک نیا بینک ماڈل متعارف کرایا گیا ہے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.







