بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ تجارتی محصولات پاکستان کی برآمدات اور معیشت کو متاثر کریں گے۔
اپنی تازہ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اگرچہ اثرات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن امریکی اقدامات سے پاکستان کی برآمدات اور اقتصادی ترقی سست ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں معمولی کمی اور 2026 میں 0.3 فیصد کمی کی توقع ہے۔
2 اپریل 2025 کو امریکہ نے پاکستان پر 29 فیصد ٹیکس عائد کیا، جو کہ ایک بڑا اضافہ ہے۔ اگرچہ پاکستان کی برآمدات جی ڈی پی کا صرف 10 فیصد ہیں، مگر امریکہ سب سے بڑا خریدار ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک جیسے بنگلہ دیش (37٪)، چین (145٪)، بھارت (26٪)، اور ویتنام (46٪) پر بھی بھاری ٹیکس عائد کیے گئے ہیں، اس لیے پاکستان کو مسابقتی برتری حاصل ہو سکتی ہے، لیکن خطرات پھر بھی موجود ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف براہ راست اثرات ہی نہیں بلکہ عالمی مالی حالات کی سختی، ترسیلات زر میں ممکنہ کمی، اور تجارتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال بھی پاکستان کی معیشت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق اجناس کی قیمتوں میں کمی اور درآمدات میں کمی سے کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر زرمبادلہ میں کمی کا دباؤ بڑھے، تو روپے کی قدر کو لچکدار رکھنا ضروری ہوگا۔
مہنگائی کے بارے میں رپورٹ کہتی ہے کہ اس پر مجموعی اثر معمولی ہو گا، کیونکہ کم قیمتوں اور سست رفتار معیشت کی وجہ سے مہنگائی پر نیچے کا دباؤ پڑے گا۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان امریکہ سے مزید اشیاء خریدنے اور غیر محصولاتی رکاوٹیں ختم کرنے کا خواہاں ہے تاکہ بلند امریکی محصولات سے بچا جا سکے۔








