ادارتی تجزیہ
پاکستان کے پیچیدہ سیاسی منظرنامے میں اکثر سیاسی جماعتیں خود کو “عوامی” یا “مقبول” کہنے میں جلدی کرتی ہیں، مگر جب ان کے دعوے عوامی خدمت کے عملی معیار پر پرکھے جائیں تو وہ کھوکھلے اور بے بنیاد نظر آتے ہیں۔ مقبولیت نہ جلسوں کی بھیڑ سے آتی ہے، نہ نعرہ بازی یا سوشل میڈیا پر ٹرینڈز سے؛ بلکہ حقیقی مقبولیت عوامی فلاح، انصاف، ریاستی کارکردگی، سیاسی آزادیوں اور بنیادی شہری حقوق کی فراہمی سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر کوئی جماعت ان بنیادی معیاروں پر پورا نہیں اُترتی تو اس کی مقبولیت محض ایک دعویٰ ہے، حقیقت نہیں۔
ریاست کی ساکھ کی بنیاد عدل و انصاف پر ہوتی ہے۔ اگر ایک عام شہری کو عدالت، تھانے یا دیگر ریاستی اداروں سے فوری، سستا اور غیر جانبدار انصاف نہ ملے تو وہ ریاست سے بدظن ہو جاتا ہے۔ جو حکومتیں انصاف کی فراہمی، پولیس اور عدالتی اصلاحات، اور شفاف احتساب کے نظام پر کام کرتی ہیں، وہی عوام کے دلوں میں جگہ بناتی ہیں۔ جب انصاف طبقاتی بنیاد پر دیا جائے—یعنی اشرافیہ کو رعایت اور عام آدمی کو سزا—تو ریاست کی اخلاقی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔
روزگار کا مسئلہ صرف معاشی نہیں، بلکہ سماجی اور نفسیاتی پہلو بھی رکھتا ہے۔ بے روزگاری جرائم، مایوسی اور معاشرتی ان تشار کو جنم دیتی ہے۔ حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرے، ہنرمندی کے مواقع دے، صنعتکاری، آئی ٹی، اور زراعت میں سرمایہ کاری کرے تاکہ روزگار کے دروازے کھلیں۔ ریپبلک پالیسی کی فیلڈ اسٹڈی کے مطابق، 68 فیصد شہری بے روزگاری کو حکومت کی ناکامی کی سب سے بڑی علامت سمجھتے ہیں۔
اسی طرح ریاستی اداروں کی کارکردگی، جیسے اسکول، اسپتال، بلدیاتی دفاتر، پٹوار خانے، تھانے، واپڈا، اور نادرا جیسے ادارے، براہِ راست عوامی تجربے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر ان اداروں میں کرپشن، نااہلی اور بے حسی غالب ہو تو عوام ریاست سے بدظن ہو جاتے ہیں۔ حکومت کی اصل کارکردگی انہی اداروں کی شفافیت، فعالیت اور عوام دوست رویے سے ظاہر ہوتی ہے۔
Please, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com
جمہوریت صرف ووٹ دینے کا عمل نہیں، بلکہ اظہارِ رائے، احتجاج، آزاد میڈیا، اور سیاسی جماعتوں کی آزادی پر مبنی نظام ہے۔ جب اختلافِ رائے کو دبایا جائے، میڈیا کو سنسر کیا جائے، اور اپوزیشن کو قید و بند میں رکھا جائے تو یہ حکومت جمہوری نہیں رہتی۔ سیاسی آزادیوں کا نہ ہونا عوامی اعتماد کو کھوکھلا کر دیتا ہے، اور اس کا براہِ راست اثر مقبولیت پر پڑتا ہے۔
آئینِ پاکستان ہر شہری کو برابر کے حقوق دیتا ہے، جن میں تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ، شناخت اور مساوی سلوک شامل ہیں۔ اگر عوام کو لگے کہ ان کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں یا ان سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، تو وہ حکومت سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ اقلیتوں، خواتین، مزدوروں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ برابری کا سلوک اور ان کے حقوق کا تحفظ کسی بھی حکومت کی عوامی مقبولیت کا اہم معیار ہے۔
ریپبلک پالیسی کے تجزیے اور عوامی رائے شماری کے مطابق، اصل مقبولیت وہی حکومت حاصل کرتی ہے جو ان پانچ اشاریوں پر پورا اُترتی ہو۔ سوشل میڈیا کی چمک یا ریاستی بیانیہ عوام کے تجربے کو بدل نہیں سکتا۔ جب تک عوام کو انصاف، روزگار، مؤثر سرکاری خدمات، سیاسی آزادی اور بنیادی حقوق میسر نہ ہوں، تب تک مقبولیت صرف ایک فریب ہے، حقیقت نہیں۔













