ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اب برداشت اور صبر کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، اور اگر امریکا نے ایران کی متعین کردہ سرخ لکیر عبور کی تو اس کا ردعمل صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح تک پھیل سکتے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے اہم تنصیبات اور انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات مزید کشیدہ ہوئے تو امریکا اور اس کے شراکت داروں کو طویل مدت تک خطے کے تیل اور گیس کے وسائل تک رسائی سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی سنجیدہ اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے علاقائی اتحادیوں کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ایران نے اب تک صرف ہمسائیگی اور علاقائی استحکام کی خاطر صبر کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اس صبر کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔
دوسری جانب ایرانی صدر نے یہ دعویٰ کیا کہ ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، جو قومی عزم اور دفاعی تیاری کا مظہر ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے امریکی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مفادات دوسروں کے حوالے کر دیے ہیں، جبکہ انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ ان کے کتنے اہم مفادات اور اثاثے ایران کی پہنچ میں ہیں، جو کسی بھی کشیدگی کی صورت میں نشانہ بن سکتے ہیں۔






