ایران نے واضح کیا ہے کہ ثالثی یا مذاکرات کا مقصد صرف عارضی جنگ بندی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان میں حملوں کا مکمل خاتمہ اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کی روک تھام کی واضح ضمانت شامل ہونی چاہیے۔
تہران سے ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ یہ مطالبہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ ایرانی عوام کی سنجیدہ خواہش بھی ہے، جو چاہتے ہیں کہ انہیں اس حوالے سے مکمل یقین دہانی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اس بات کا اعتماد ہونا چاہیے کہ کسی بھی ثالثی یا مذاکرات کے دوران ان کی سرزمین پر دوبارہ حملے نہیں ہوں گے۔
مہاجرانی نے زور دیا کہ ایران نے اس جنگ کا آغاز نہیں کیا، تاہم اگر حالات مسلط کیے گئے ہیں تو ایران اسے منطقی انجام تک پہنچانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول ایران کی ترجیحات میں اپنی قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات یا ثالثی کا عمل صرف وقتی جنگ بندی یا عارضی اقدامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں طویل المدتی امن اور حملوں کی روک تھام کی ضمانت بھی لازمی ہونی چاہیے۔








