کراچی میں سکول پرنسپل کی جانب سے جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ

[post-views]
[post-views]

مبینہ طور پر کراچی کے ایک سکول میں ہونے والے جنسی حملوں کے بارے میں چونکا دینے والی تفصیلات، اس بدصورت حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جنسی شکاری اکثر معاشرے میں ’احترام‘ کے نام پر چھپ کر کام کرتے ہیں۔ پولیس کے مطابق، گلشن حدید کے علاقے میں واقع ایک سکول کے مالک/پرنسپل پر متعدد خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور متاثرین کو بلیک میل کرنے کے لیے جنسی استحصال کی فلم بندی کرنے کا الزام ہے۔ ملزم مبینہ طور پر خواتین کو ملازمت کا لالچ دے کر ان پر جنسی حملہ کرتا تھا۔

کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 45 خواتین اس کا شکار بنی، پانچ متاثرین نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ساتھ سکول کے پرنسپل نے زیادتی کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے فون سے مجرمانہ ویڈیو کلپ برآمد ہوئے ہیں۔ یہ بدنما واقع اس وقت سامنے آیا جب سکول میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مرمت کرنے والے ایک کاریگر نے یہ ویڈیوز دریافت کیں، جنہیں بعد میں کارکن کے ساتھی نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا۔ یہ جرم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے جنسی اور منشیات کے واقع سے پریشان کن مماثلت رکھتا ہے جو چند ماہ قبل سامنے آیا تھا۔ پولیس نے یونیورسٹی کے اہلکاروں پر طالب علموں کو منشیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین اساتذہ اور طالبات کی فحش ویڈیوز بنانے کا بھی الزام لگایا تھا۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا معاملہ فی الحال ایک ٹربیونل کے ذریعہ جانچا جارہا ہے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

یہ تشویشناک بات ہے کہ کراچی کے سکول کے عملے، مقامی کمیونٹی کے ارکان یا پولیس حکام میں سے کسی کو بھی احاطے میں ہونے والے جرائم کے بارے میں علم نہیں تھا۔ اس بات کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ آیا مشتبہ شخص اکیلے کام کر رہا تھا، یا اس بھیانک جرم میں دوسرے بھی اس کےساتھ ملوث تھے۔ اگر یہ شخص واقعی ہی مجرم ہے تو اس کو قانون کے تحت سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔ اس کیس میں خواتین پولیس اہلکاروں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جو متاثرین ہیں وہ آسانی سے ثبوت ریکارڈ کروا سکیں۔

بدقسمتی سے، ملک بھر میں ایسے بہت سارے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، خاص طور پر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے لڑکیوں اور خواتین کو بلیک میل کرنے کے لیے فحش مواد آن لائن اپ لوڈ کرنا کے حوالے سے۔ ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے شکاریوں کا بھرپور تعاقب کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ لڑکیوں اور خواتین کی زندگیوں کو تباہ نہ کر سکیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos