لاہور ہائی کورٹ نے جمعہ کو پارلیمنٹ کی جانب سے تاحیات نااہلی کی مدت پانچ سال کرنے کے خلاف درخواستیں خارج کر دیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد بلال حسن نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ درخواستیں ناقابل سماعت ہیں۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواستوں کی مخالفت کی، جسٹس شاہد بلال حسن نے شہری شبیر اسماعیل کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار نے اپنی اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ پارلیمنٹ نے تاحیات نااہلی کے قانون میں ترمیم کرکے اسے پانچ سال کر دیا ہے۔
قواعد کے مطابق تاحیات نااہلی کے قانون میں پارلیمنٹ مخصوص ارکان کے ذریعے ترمیم نہیں کر سکتی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ سے قانون کی منظوری سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاحیات نااہلی آئین کے آرٹیکل 62(ون)(ایف) کے تحت کی گئی تھی اور سپریم کورٹ پہلے ہی مذکورہ آرٹیکل کی وضاحت کر چکی ہے۔
درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ عدالت نااہلی کی مدت کو کم کرکے پانچ سال کرنے کے قانون کو کالعدم قرار دے۔
بعد ازاں جسٹس شاہد بلال حسن نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے تاحیات نااہلی کی مدت پانچ سال کرنے کے خلاف درخواست خارج کر دی۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.







