
ہماری قومی تاریخ بالعموم اور دیہی تاریخ بالخصوص ”ٹھگ“ ، ”سگ“ اور ”پگ“ کے ذکر کے بغیر نامکمل بھی ہے اور بے کیف بھی۔ اگرچہ ٹھگ ہمیشہ قابل صدحیف رہے ہیں مگر وہ ہماری تاریخ کو رنگین بھی بناتے ہیں اور سنگین بھی۔ سگ بھی دیہات میں ہر گھر کا حصہ ہیں اگرچہ اب شہروں میں بھی امیر لوگ ”سگ“ کے بغیر نہیں رہتے ہیں۔ ٹھگ نہایت پیشہ ور لٹیرے تھے جو اپنے مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک چلے جاتے تھے اب ”ٹھگ“ نہیں رہے مگر بہت سے لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ آج کل ٹھگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کا طریقہ واردات جدید ہو چکا ہے اس لیے آج کل کے ٹھگ کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ ”سگ“ کی انسان سے اور انسان کی اپنی ”پگ“ سے وفاداری کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ”ٹھگ“ بھی زمانہ قدیم سے اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔اصحاب کہف کا ”سگ“ امر ہو چکا ہے تو ”سگ“ لیلیٰ بھی ہمارے ادب میں ایک لافانی کردار ہے۔ ”پگ“ والا چوہدری بھی ہمارے افسانوں اور ڈراموں کے طفیل اساطیری حیثیت کا حامل ہے اگرچہ میرے ایک کامریڈ ٹائپ دوست کا کہنا ہے کہ لیلیٰ کا ”سگ“ اور چوہدری کی ”پگ“ بہت بڑے ”ٹھگ“ رہے ہیں اور آج کے دور میں بھی لیلیٰ کا کتا بہت سے انسانوں سے بہتر ہے تو چوہدری کی ”پگ“، اگرچہ نظر نہ بھی آئے، پہلے سے بھی زیادہ نقصان کر رہی ہے۔
ہمارے کامریڈ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک یہ قوم لیلیٰ کے ”سگ“ اور چوہدری کی ”پگ“ کی ذہنی غلام بنی رہے گی ترقی کی منزل دور ہی رہے گی اور یہ قوم شکستوں سے چور ہی رہے گی۔ماضی قریب میں کئی لوگ چوہدری کو یہ کہہ کر جگانے کی کوشش کرتے تھے کہ اس کی ”پگ“ کو داغ لگ گیا ہے۔ اس زمانے میں چوہدری کو ایسے ”ڈیٹرجنٹ“ کی سہولت میسر نہیں تھی جو پکے داغ بھی پیار سے نکال دیتا تھا البتہ اس دور کا چوہدری اپنی ”پگ“ کو داغ لگانے والے کو سرتاپا داغ دار کرنے کی صلاحیت سے مالامال تھا چوہدری اپنی ”پگ“ بھی بدل سکتا تھا اور ایسے اعلان کرنے والے لوگوں کی زبان بندی بھی کر سکتا تھا۔ بعض لوگوں کی رگ رگ میں ان کی ”پگ“ بسی ہوتی ہے تو بعض لوگوں کے بارے میں دوسروں کی رائے یہ ہوتی ہے کہ وہ رگ رگ سے ”سگ“ ہیں اور نرے ”ٹھگ“ ہیں۔دیہات میں ”سگ“ نہ ہوتو فصل کو ”ٹھگ“ پڑ جاتے ہیں اور اونچے شملے والی ”پگ“ نہ ہوتو ناموس کو ٹھگی کا خطرہ لاحق رہتا ہے اگرچہ غریب آدمی ”سگ“ اور ”پگ“ جیسے بھی ہوں ان سے ڈرتا رہتا ہے اور اس کو ہر لحظہ کسی انہونی کا اندیشہ رہتا ہے وہ مگر کسی کو کچھ نہ کہتا ہے چپ چاپ ان گنت اندیشوں کا عذاب سہتا ہے بسا اوقات اس کا لہو اس کی آنکھ سے صورت اشک بہتا ہے مگر ہمارے ہاں معاشرے کا چلن ازل سے یہی رہتا ہے۔ نادار کی کئی نسلیں اسی جدوجہد کی نذر ہوجاتی ہیں کہ وہ ”سگوں“ کے نرغے سے نکل کر ”پگوں“ والے حلقے میں شامل ہو سکیں مگر ہمارے معاشرتی نظام میں ذات، پات کے سومنات کو توڑنے والا غزنوی شاید ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔
کسی زمانے میں ٹھگوں کی نظر عزت دار آدمی کی ”پگ“ پر رہتی تھی مگر ہمارے سردار جان سے جاتے تھے ”پگ“ کی آن پر حرف نہیں آنے دیتے تھے۔ اس دور کا سردار قوم کا خادم بھی ہوتا تھا اور آئیڈیل بھی۔ کسی کے سر پر ”پگ“ رکھ دی جاتی تھی تو اس کا انگ انگ احساس ذمہ داری سے مہکنے لگتا تھا جو پورا معاشرہ بہکنے لگتا تھا تب بھی اس کے قدم نہیں ڈگمگاتے تھے اس کو ”پگ“ کی حرمت کے سب فرض نبھانا آتے تھے اب ہماری دنیا بہت بدل گئی ہے بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ پگوں والے ختم ہو گئے ہیں اور ہر طرف سگوں والے پھررہے ہیں۔ یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ صاحب پگ کون ہے اور بدترین ٹھگ کون ہے۔میرے خیال میں ہر دور کا بدترین ”سگ“ اور بدترین ”ٹھگ“ انسان کا اپنا نفس ہے۔ نفس کا فسانہ سمجھنا ہوتو انتظار حسین کے افسانے کے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی۔ افتخار عارف نے بھی بالکل بجا کہا تھا:۔
؎شکم کی آگ لیے پھیر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہے ہم کیا ہماری ہجرت کیا
فارسی کے ایک شاعر نے کہا تھا کہ ”آواز سگاں کم نہ کن رزق گدا را“ ۔ اگرچہ بعض اوقات انسان کو لگتا ہے کہ وہ اس دور میں زندہ ہے جب پتھر جکڑ دیے گئے ہیں اور ”سگ“ اور ”ٹھگ“ ہر سو دندناتے پھر رہے ہیں۔شہر کے ہر گھرمیں چمکتے جگ اور دمکتے مگ نمایاں جگہ پر نظر آتے ہیں اس لیے شہری گھروں میں عموماً چہرے دمک رہے ہوتے ہیں اور زندگی جگمگ کر رہی ہوتی ہے۔ دیہات کے گھر گھر میں ہر وقت ”سگ“ ، ”پگ“ اور ”ٹھگ“ کا ذکر چل رہا ہوتا ہے اور ایک ان دیکھا خوف فضا پر طاری رہتا ہے۔ اللہ پاک سے التجا ہے کہ ہمارے شہر اور دیہات خونخوار سگوں اور ٹھگوں سے پاک ہوجائیں اور صدا جگمگ، جگمگ کرتے رہیں۔













