“مجبورِمحض اور فیض”

[post-views]
[post-views]

تحریر :      ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں۔

انسان مجبور ہے یامغرور ہے۔ اپنی تقدیر کامالک ہے یابے بس بالک ہے۔ اس بابت ہر دور میں مختلف آراء رہی ہیں۔ گئے وقتوں میں کچھ لوگ کسی انسان کو بھگوان بنا لیتے تھے توکئی لوگ اپنے آپ کو حیوان بنا لیتے تھے اور اپنے جیسے انسانوں کو حیوانوں سے بھی کم تر سمجھنا شروع کردیتے تھے۔ چند لوگ انسان کو دیوتا سمجھتے تھے تو ایسے بھی بہت تھے جن کاایمان تھا کہ انسان دیوتاؤں کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔ انسان فقط ایک ایسی پُتلی ہے جوناچنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کرسکتی۔ دیوتاعمر بھرانسان کو نچاتے رہتے ہیں۔

ہمارے قدیم شعراء کی اکثریت اس بات کی قائل تھی کہ انسان فقط مجبورِمحض ہے۔ تقدیرجو چاہتی ہے، خود کر گزارتی ہے۔ تہمت انسانوں پر لگ جاتی ہے۔ انسان کے بس میں توکچھ نہیں بس مفت کی بدنامی کماتا ہے۔ ہمارے پسندیدہ شاعرنے کہا ”جن فرشتوں کوانسان عمر بھر کندھوں پر بٹھائے رکھتا ہے وہ بھی راضی نہیں ہوتے“۔  ہمارے شاعر کو یہ گلہ بھی تھا کہ انتہائی عجلت میں ”کن“ کہہ کر یہ کائنات بنا دی گئی۔ اس لیے ہر طرف خرابی ہی خرابی نظر آتی ہے۔

 بعض شعراء انسان کو مجبورِ محض سمجھتے رہے تو بعض انسان کے علاوہ ہرصداقت کے ہی منکر ہوگئے۔ ہمارے شعراء کی اکثریت ایک انتہا پر تھی یا دوسری انتہا پر۔ ابن انشاء نے ایک دفعہ کہا کہ  ”انہوں نے جو کچھ کہا ہے اور جوکچھ فیض صاحب نے فرمایا ہے وہ سب مایہ ہے“۔ انشاء جی کا فرمان بجا لیکن، فیض صاحب کا فرمایا ہوا ہر لفظ ہمارا سرمایہ ہے۔ میرے ایک دوست کے بقول جو شخص ”فیض صاحب سے فیض نہیں پاتا، وہ ہمیشہ پچھتاتا ہے“۔ 

ایک شاعر نے بالکل بجا کہا تھا کہ انسان کو درد دل کیلئے پیدا کیاگیا ہے ورنہ خالقِ کائنات کی اطاعت کیلئے فرشتوں کی ایک کثیر تعداد ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ فیض صاحب نے اپنے قول اور فعل سے یہ ثابت کردیا کہ انسان مجبورِ محض نہیں ہے بلکہ انسان وہ ہے جو اپنی زندگی مجبور اور محکوم انسانوں کی فلاح کیلئے وقف کردیتاہے۔ فیض صاحب نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اُن کے لب آزاد ہیں۔ انسان اگر ٹھان لے تو تخت گراسکتا ہے، تاج اچھال سکتاہے۔ دُکھی انسانیت کو سنبھال سکتاہے۔

Don’t forget to subscribe our Channel & Press Bell Icon.

فیض صاحب سے پہلے ہمارے ہاں عاشق کام کاج بالکل نہیں کرتے تھے۔ کئی لوگ توعاشقوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ”کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا“۔ فیض صاحب نے یہ ثابت کردیا عشق اور کام اکٹھے چل سکتے ہیں۔ وہ عشق بھی کرتے رہے اور کام بھی۔

فیض صاحب کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ ”شکوہ ظلمت شب کا شکوہ کرتے رہنے سے کہیں بہتر ہے کہ ہرانسان اپنے حصے کی شمع جلائے“۔ انسان کو اگر اپنے مقصدِحیات پر کامل یقین ہو تو بھلے وہ تاریک راہوں میں بھی مارا جائے، انسانیت کا چہرہ روشن کرجاتا ہے۔ فیض صاحب کا عقیدہ ہے کہ”جسم اور زبان کی موت سے پہلے تھوڑا وقت بھی بہت ہوتا ہے۔ بندہ جو سچ بول سکے، بول لینا چاہیے“۔ فیض صاحب جانتے تھے کہ بعض اوقات جس بات کا سارے فسانے میں ذکر تک نہیں ہوتا، وہی کسی کو ناگوار گزرتی ہے۔ کوئے یار سے نکل کر سیدھا سوئے دار جانا پڑتا ہے۔ مدتوں کی آشنائی اور ملاقاتوں کے باوجود لوگ اجنبی بن سکتے ہیں۔ فیض صاحب مگر ہمیشہ اس یقین کے سہارے زندہ رہے کہ خون کے دھبے کبھی نہ کبھی دھل جانے ہیں اور اس دھرتی کاکونا کونا بے داغ سبزے کی بہارسے مہک اُٹھے گا۔ فیض صاحب کا یقین آج بھی سچ ثابت ہوسکتا ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ بندہ ارضِ وطن کو محبوب سمجھے اور ہم وطنوں کو رقیب نہیں حبیب سمجھے۔

فیض صاحب کی ساری زندگی مثبت فکر اور رجائیت کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب  وطن کی گلیوں میں یہ رسم چل چکی تھی کوئی سر اُٹھا کر نہ چلے۔ نظر چرا کر اور جسم و جاں بچا کر جیا جائے۔ فیض صاحب ان حالات میں بھی یوں صبح و شام کرتے رہے کہ روزن زنداں کے بجھنے سے یہ جان لیتے تھے کہ اب وطن کی مانگ ستاروں سے بھر چکی ہے۔ اگر سلاسل چمک اُٹھتے تھے تواُن کا دل مسرت سے بھر جاتا تھا کیوں کہ ارض وطن پر اک نئی سحر طلوع ہوچکی ہوتی تھی۔ فیض صاحب اپنے وطن کے تصور میں شام و سحر کرتے رہے اور آگ میں پھول کھلاتے رہے۔ انہوں نے نہ کبھی فلک کا گلہ کیا اور نہ اپنا دل بُرا کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رات بھر کی جدائی اور چار دن کی خدائی کی کوئی بات نہیں۔ وطن سے عہدِ وفااستوار رہے تو گردشِ لیل ونہارکا علاج ہو ہی جاتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos