منی بجٹ میں 170 ارب روپے کے نئے ٹیکسز کا نفاذ

[post-views]
[post-views]

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ مذاکرات کی بحالی سے قبل رواں مالی سال کے بقیہ حصے میں 170 ارب روپے کے نئے ٹیکس متعارف کرائے ہیں۔

پارلیمنٹ سے بل منظوری کے بعد حاصل ہونے والی آمدنی اس سال کے بجٹ کو توازن فراہم کرنے میں مدد دے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی آئی ایم ایف کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے بھی یہ بل بہت اہمیت کا حامل ہے۔

وقت کی قلت  اور آپشنز پر غور کرتے ہوئے، کچھ لوگ  یہ دلیل دے رہے ہیں کہ حکومت اچھے اقدامات اُٹھا رہی ہے۔ زیادہ تر آمدنی اشیائے خوردونوش کےٹیکس کی معیاری شرح کو 17 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے اور تمباکو کی صنعت، ہوائی ٹکٹوں اور میٹھے مشروبات پر ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے حاصل کی جائے گی۔باقی آمدنی  دیگر اقدامات سے آئے گی، جیساکہ شادی ہال کے بلوں پر ایڈجسٹ ایڈوانس ٹیکس۔

ڈیفالٹ کے خطرے کے پیش نظر ، حکومتی اتحا د کے پاس  بیل آؤٹ پروگرام کو محفوظ بنانے کے لیے ان اقدامات کو تیز کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔لیکن ریونیو موبلائزیشن کے لیے بالواسطہ ٹیکسوں پر حکومتوں کا مسلسل انحصار امیروں اور طاقتوروں پر ٹیکس لگانے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے آسان راستہ اختیار کرنے کے حکومتی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

بڑے کسانوں، رئیل اسٹیٹ کے لین دین وغیرہ پر ٹیکس کے نفاذ سے شاید فوری طور پر ٹیکس کے فوائد حاصل نہ ہوں، لیکن یہ یقینی طور پر ناقص ٹیکس ڈھانچے کو درست کرنے اور بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کو کم کرنے کی طرف ایک بہت  بڑا قدم ہوسکتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں سے متوسط آمدنی والے گھرانے بہت متاثر ہوتے ہیں۔اضافی ٹیکس اقدامات ماہانہ صارفین کی قیمتوں میں افراط زر کی رفتار کو بڑھا دیں گے، جو پہلے ہی 48 سال کی بلند ترین سطح 27.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور کم آمدنی والے خاندانوں کوٹیکس کا یہ اضافی بوجھ مزید دباؤ میں لے آئے گا۔

اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور بہت سے لوگوں کو توقع ہے کہ غربت اور بھوک میں اضافہ ہوگا۔

قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں مسٹر ڈار نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت کی جانب سے مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا کر معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ ملک کے زیادہ تر لوگوں کے لیے بہت تکلیف دہ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ متوسط طبقہ کے آمدنی میں اضافہ کریں گے۔ تاہم، یہ ایک بیان بازی ہے جسے ہم ہر وزیر خزانہ سے باقاعدگی سے سنتے رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ٹیکس اور دیگر پالیسیوں کے ذریعے عام لوگوں پر مزید مصائب کا ڈھیر لگاتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کے عارضی اصلاحات کے ذریعے بجٹ کو متوازن کرنے کی بجائے مستقل حل تلاش کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos