منو بھائی کو رخصت ہوئے پانچ برس بیت گئے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے آغاز کے چند سال بعد اسلم اظہر کے کہنے پر انہوں نے 65ء کی جنگ کے موضوع پر ’’پل شیر خان‘‘ ڈراما لکھا۔ اس کے بعد پچاس سال میں جلوس، جزیرہ، سونا چاندی، گمشدہ، دروازہ، جھوک سیال، دشت اور عجائب گھر جیسے بے شمار یادگار ڈرامے لکھے۔
کالم کا آغاز 1958 میں روزنامہ ’’تعمیر‘‘ راولپنڈی میں ’’اوٹ پٹانگ‘‘ کے عنوان سے کیا۔ پھر ’’گریبان‘‘ لکھنے لگے۔ جو ’’امروز‘‘ سے شروع ہوا اور ’’جنگ‘‘ تک پہنچا۔ درمیان میں گاہے گاہے ’’مساوات‘‘، ’’صداقت‘‘ اور دوسرے اخبارات میں بھی چھپا۔ مارشل لا دور میں منو بھائی کا ’’امروز‘‘ ملتان تبادلہ کردیا گیا تو وہاں سے ’’ملتانیات‘‘ بھی لکھتے رہے۔
منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا۔6 فروری 1933ء کو وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی امام مسجد تھے، کتابوں کی جلد سازی اور کتابت ان کا ذریعہ معاش تھا۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے۔ ان کے والد محمد عظیم قریشی ریلوے میں ملازم تھے، جو بعد میں اسٹیشن ماسٹر بنے۔ پنجابی کے معروف شاعر شریف کنجاہی ان کے ماموں تھے۔ 1947ء میں میٹرک کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج کیمبل پور (اٹک) آ گئے، وہاں غلام جیلانی برق، پروفیسر عثمان جیسے اساتذہ سے انہیں پڑھنے کا موقع ملا۔ یہیں پنجابی شاعری شروع کی۔ طالب علم سیاست میں سرگرم ہونے کی وجہ سے کالج سے نکال دیا گیا اور یوں بی اے مکمل نہ کرسکے۔
والد نے افسروں سے کہہ کر ریلوے میں بھرتی کرالیا ۔ ایک اچھی نوکری کا تقرر نامہ بھی آگیا۔ لیکن انہیں یہ پسند نہیں آیا۔ گھر سے نکل کر راولپنڈی آگئے جہاں ان کے کالج کے زمانے کے دوست شفقت تنویر مرزا پہلے سے موجود تھے۔ منوبھائی نے اخبار تعمیر میں پچاس روپے ماہوار پر پروف ریڈر کی نوکری کرلی۔ پھراسی اخبار سے اوٹ پٹانگ کے عنوان سے کالم نگاری کا آغاز کیا۔
امروز اخبار میں نظم بھیجی تو اس وقت کے مدیر احمد ندیم قاسمی نے قلمی نام منو بھائی عطا کیا۔ جو ان کے اصل نام کی جگہ معروف ہے، اسی نام سے کالم اور ڈراما نگاری کی۔’’تعمیر‘‘ سے قاسمی صاحب انہیں ’’امروز‘‘ میں لے آئے۔ یہاں انہوں نے دوسری صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ’’گریبان‘‘ کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کیے۔ حکومت سے صحافیوں کے معاوضے کے جھگڑے پر ان کا تبادلہ سزا کے طور پر ملتان ’’امروز‘‘میں کر دیا گیا، جہاں سے حنیف رامے انہیں مساوات میں لے آئے۔ 7 جولائی 1970ء کو مساوات میں ان کا پہلا کالم چھپا۔ پھر امروز میں واپس چلے گئے۔ جنگ لاہورسے شروع ہوا تو میر خلیل الرحمنٰ انہیں بھی لے آئے۔
منو بھائی نے 19 جنوری 2018 کو لاہور میں وفات پائی۔
اجے قیامت نئیں آئی (پنجابی شاعری کا مجموعہ)
جنگل اداس ہے (منتخب کالم)
فلسطین فلسطین
محبت کی ایک سو ایک نظمیں
انسانی منظر نامہ (تراجم)
ناظم حکمت کی شاعری کا ترجمہ












