امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو بارہا خبردار کیا تھا کہ اگر وہ سستے داموں روسی تیل خرید کر روس کی معیشت کو مضبوط کرتا رہا، تو اسے سخت اقتصادی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔
ابتدائی طور پر بھارتی حکومت نے روس سے تیل خریدنے کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیا اور اعلان کیا کہ وہ کسی دباؤ میں آ کر اس خریداری کو بند نہیں کریں گے۔ مودی سرکار نے حتیٰ کہ امریکی موقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ روس سے فائدہ اٹھانے والے ممالک میں خود امریکہ بھی شامل ہے۔ وزیراعظم مودی نے بھی زور دے کر کہا کہ روس سے تیل خریدنے کے معاہدے برقرار رہیں گے۔
لیکن عملی صورتحال نے حکومت کے دعووں کی قلعی کھول دی۔ بھارتی کمپنیاں اور ادارے بتدریج روسی تیل کی خریداری سے رکنے لگے، جس سے خدشہ پیدا ہوا کہ ملک میں پیٹرول کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں مودی حکومت نے اپنے موقف میں نرمی اختیار کی۔
مودی کے قریبی دوست اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس نے بھی روس سے تیل خریدنا بند کر دیا۔ اب انہیں مہنگے داموں تیل مشرق وسطیٰ یا امریکہ سے خریدنا پڑے گا، جس سے پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، مکیش امبانی نے یہ قدم امریکی دباؤ کو کم کرنے اور وزیراعظم مودی پر اقتصادی دباؤ ہلکا کرنے کے لیے اٹھایا، کیونکہ مودی اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارت کے دس سالہ روسی تیل کے معاہدے اب عملی طور پر بے اثر ہو گئے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بھارت نے روس سے تیل خرید کر اسے مہنگے داموں فروخت کیا اور اس دوران اربوں ڈالر کے منافع حاصل کیے۔












