مون سون چیلنج

[post-views]
[post-views]

ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر پاکستان کی طرح جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات میں سب سے زیادہ متاثر ہے، قدرتی طور پر بھی سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔ گزشتہ ماہ صرف پری مون سون بارشوں کے نتیجے میں پنجاب اور کے پی میں بارشوں سے تقریباً 30 افراد ہلاک ہو ئے۔ مون سون سے پہلے کی بارشوں اور پچھلے سال کے سیلاب کی تباہ کاریوں پر غور کرتے ہوئے، کوئی بھی آنے والی تباہی کی حد کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وزارت اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے سخت انتباہات جاری کیے ہیں، اور مناسب طریقے سے اس پر عمل کرنے کے لیے، ہمیں ماضی میں اختیار کیے گئے رد عمل سے متعلق انتظامی انداز کو ترک کرنا چاہیے، اور فعال انداز میں کام کرنا چاہیے۔

گزشتہ سال مون سون کی بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے کم از کم 1700 جانیں ضائع ہونے کے ساتھ، تقریباً 50,000 لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے اور بنیادی ڈھانچے اور مویشیوں کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات آج بھی برقرار ہیں۔ان سب تباہ کاریوں کی بڑی وجہ انتظامات کی ناکامی ہے۔ این ڈی ایم اے نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور فلاحی اداروں کو آئندہ سیلاب کے حوالے سے سخت وارننگ جاری کی ہے۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

صوبائی اور ضلعی انتظامی حکام کو تیزی سے متحرک ہونے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ پورے ملک میں نکاسی آب کے نظام بہترین حالت میں ہوں اور پہلے سے موجود کسی بھی ملبے سے پاک ہوں۔ سیلاب شدید بارش کی وجہ سےاکثر آتے ہیں ، کیونکہ پاکستان میں پانی کی نکاسی کا سسٹم فرسودہ اور پرانا ہے اور اکثر شہروں اور دیہاتوں میں نکاسی کا سسٹم موجود ہی نہیں ہے ۔ اس نکاسی آب کے سسٹم کو ٹھیک کرنے سے  سیلاب کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے زمین پر اضافی پانی جمع ہونے کا امکان کم ہو جائے گا۔

آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

موسمیاتی آفات کے خلاف پاکستان نے ماضی میں جو غیر جانبدارانہ رویہ اپنایا ہے اسے فوری طور پر ترک کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پچھلے سال اسی سیزن میں  سیلاب آیا تھا اور وہ موسم اب آن پہنچا ہے۔ حال کو نظر انداز کرنا اور اس کے بعد کے حالات سے نمٹنا ایک ایسا نقطہ نظر ہے جو حالات کی سنگینی کو تسلیم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ مناسب پیشگی اقدامات کو اپنانے سے، ہم اس طوفان سے نمٹنے کی امید کر سکتے ہیں۔ ہمیں این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری پر دھیان دینا چاہیے، کیونکہ آج کا فعال ہونا ہمیں آنے والے کل سے نمٹنے سے بچائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos