جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعرات کو سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل فیض حمید کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا ذمہ دار ٹھہرایاہے۔
ایک نجی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانافضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے عدم اعتماد کے ووٹ کی قیادت کی جب کہ جنرل باجوہ اور فیض حمید مبینہ طور پر ملوث جماعتوں پر اثر انداز ہو رہے تھے۔
مولانا فضل الرحمن نے تمام ریاستی اداروں کے احترام کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں عدم مداخلت کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ اگر اسٹیب کو لگتا ہے کہ عام انتخابات منصفانہ ہیں تو 9 مئی کے واقعات سے جڑا بیانیہ ختم ہو جائے گا۔
مولانا فضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلافات کو اجاگر کیا لیکن تجویز دی کہ ان کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی کوششوں کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا مقصد ملک کے مستقبل کو بچانے کے لیے 66 نشستوں کے ساتھ حکومت بنانا ہے۔ تاہم انہوں نے اس پارلیمنٹ کی افادیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے اور پالیسیاں کہیں اور سے مرتب کی جائیں گی۔
انتخابات میں دھاندلی کے خلاف اپنی پارٹی کی طرف سے جاری مظاہروں کے بارے میں پوچھے جانے پر،مولانا فضل الرحمن نے زور دے کر کہا کہ وہ ان مظاہروں کے نتیجے میں ایک انقلابی نتائج کی پیش گوئی کرتے ہوئے، قراردادوں تک پہنچنے تک جاری رکھیں گے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.







