
تحریر: طاہر مقصود
اگر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوئے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے پنجاب میں تقریباً 2/3 حلقوں پر پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ تاریخی طور پر پی ایم ایل این پاکستان کی سب سے کامیاب سیاسی جماعت رہی ہے۔ یہ سیاسی جماعت چار بار وفاقی اقتدار میں آچکی ہے۔ نواز شریف صاحب نے تین بار پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا، اس کے بعد شہباز شریف، اس طرح، ن لیگ کے وزرائے اعظم تعداد چار تک پہنچ گئی ہے۔ پی ایم ایل این کو 2018 کے انتخابات کے بارے میں شدید تحفظات تھے، لیکن سیاسی تبدیلی دکھاتے ہوئے وہ انہی انتخابات کی توثیق کرکے اپنی وزارت عظمیٰ کا مزہ لے رہے ہیں۔ 2022 کے اوائل میں، تحریک انصاف کی حکومت میں تبدیلی کے چند ماہ قبل، پی ایم ایل این پنجاب میں سب سے زیادہ مقبول جماعت تھی۔ اس دلیل کو آسانی سے پرکھا جا سکتا ہے کیونکہ پی ایم ایل این نے تقریباً تمام ضمنی انتخابات جیتے تھے۔ تاہم حکومت میں تبدیلی اور شہباز شریف کے حلف اٹھانے کے بعد پی ایم ایل این اچانک سے غیر مقبول ہونا شروع ہو گئی۔ اسکی پہلی وجہ عمران خان کی پیدا کردہ ہمدردی کی لہر تھی۔
Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.
عوام کا خیال تھا کہ عمران خان کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے تھی۔ پھر، پی ڈی ایم کا اتحاد عوام کو متاثر نہیں کر سکا۔ نیز پی ٹی آئی نے غیر ملکی سازشی بیانیے کو خوب فروخت کیا اور اسکے ساتھ پٹرولیم کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے پی ایم ایل این کی مقبولیت کو زبردست دھچکا پہنچایا۔ جولائی 2022 کے ضمنی انتخابات نے اس بات پر مہر ثبت کردی کہ پی ٹی آئی مقبولیت کی لہر پر سوار تھی اور مسلم لیگ ن غیر مقبول ہو رہی تھی۔ 2017 سے ہی پی ایم ایل این نے پاکستان میں ”ووٹ کو عزت دو“ کے ارد گرد ایک مضبوط بیانیہ تیار کیا تھا۔ تاہم، جس طریقے سے وہ اقتدار میں لائے گئے، اس کے ساتھ، انہوں نے اپنے ہی بیانیہ کو دھوکہ دے دیا۔ پھر، ان کی ملکی اقتصادی بحالی کی کوششیں بھی ناکام ہوئیں، یوں زیادہ لوگ ان سے غیر مطمئن ہوتے چلے گئے۔ پی ایم ایل این نے ہمیشہ یہ بیانیہ تیار کیا کہ وہ معیشت کے لیے کام کرتے ہیں اور انفراسٹرکچر پر زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ حیران کن طور پر، ان کے ووٹرز نے یہ بھی پروپیگنڈہ کیا کہ ”کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے“۔ تا ہم اقتدار میں آنے کے بعد انکی جمہوری اقدار اور معاشی کارکردگی انکے ووٹرز اور عام عوام کو متاثر نہ کر سکی۔ غرض یہ کہ پاکستان میں مہنگائی اور انسانی حقوق کی صورتحال پی ایم ایل این کی مقبولیت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر دیے ہیں۔
پی ایم ایل این کو دو بنیادی چیلنجز درپیش ہیں۔ ایک مہنگائی کا اور دوسرا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا۔ ہزارہ اور سوات کے علاقوں میں ان کی مقبولیت تقریباً کم ہو چکی ہے۔ کے پی کے اور سندھ میں بھی اب وہ مقبول نہیں رہے۔ پی ایم ایل این کا وجود سوائے قابلِ انتخاب امیدواران کے بلوچستان میں بھی نہیں ہے۔ انہیں شمالی اور جنوبی پنجاب میں بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ اگر پی ٹی آئی کو منصفانہ طور پر الیکشن لڑنے دیا جائے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) وسطی پنجاب میں بھی مقابلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ پی ایم ایل این کو وسطی اور مغربی پنجاب میں مقابلہ کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ پی ایم ایل این کی تاریخ میں پہلی بار وہ اتنے غیر مقبول ہوئے ہیں۔ یاد رہے 2002 میں وہ مشہور تھے لیکن انہیں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن اب، وہ بڑے پیمانے پر مقبول نہیں ہیں اور ادارہ جاتی حمایت پر انحصار کر رہے ہیں جس پر انہوں نے طویل عرصے سے تنقید کی ہے۔ پی ایم ایل این کی کامیابی براہ راست اس سطح کے تناسب سے ہے جو پی ٹی آئی سسٹم سے حاصل کرتی ہے یا اسے آزادانہ سنبھالنے کے قابل ہے۔ اگر پی ٹی آئی کو پنجاب میں آزادانہ طور پر الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی تو پی ایم ایل این کو وجودی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔
پنجاب میں عوامی لہر پی ڈی ایم مخالف ہے۔ پی ایم ایل این کے بنیادی چیلنجز دو ہیں: پہلا مہنگائی، اور دوسرا آمرانہ طرز حکمرانی۔ مہنگائی نے غریب اور نچلے متوسط طبقے میں پی ایم ایل این کو بدنام کیا ہے، جب کہ متوسط طبقہ پی ایم ایل این کی آمرانہ حکومت کو بھی ناپسند کرتا ہے۔ اس لیے پی ایم ایل این کی کامیابی کا براہ راست انحصار پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے کی سطح پر ہے۔ آزادانہ اور شفاف انتخابات میں بھی پی ایم ایل این، پی ٹی آئی کے قریب بھی نہیں رہے گی۔
آخر میں پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے نواز شریف کی وطن واپسی ضروری ہے ۔ مسلم لیگ ن کا کوئی بھی لیڈر اتنا مقبول نہیں کہ وہ تحریک انصاف کی دوسرے درجے کی لیڈرشپ کا بھی مقابلہ کر سکے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس کوئی بھی سیاسی نعرہ نہیں ہے جو کہ عوام میں مقبول ہو سکے۔ وہ پہلے ہی ”ووٹ کو عزت دو“ کا مقبول نعرہ ترک کر چکے ہیں اور معاشی کارکردگی بھی متاثر کن نہیں ہے۔













