میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں حکمران فوجی جنتا کے فضائی حملے نے ایک بڑے سرکاری اسپتال کو نشانہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین، امدادی کارکنان اور باغی گروپ اراکان آرمی کے ترجمان نے بتایا کہ بدھ کی رات مروک یو ٹاؤن شپ میں واقع 300 بستروں پر مشتمل جنرل اسپتال پر بمباری کی گئی، جس سے اسپتال عملاً مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
ترجمان اراکان آرمی کے مطابق اسپتال میں مریضوں کی بڑی تعداد موجود تھی کیونکہ راکھین کے کئی علاقوں میں جاری لڑائی کے باعث بیشتر طبی سہولیات بند ہو چکی ہیں۔ امدادی کارکنان نے بتایا کہ حملے کے بعد اسپتال کی عمارت صبح تک ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی تھی، درجنوں لاشیں باہر رکھی گئی تھیں، اور زخمیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
میانمار 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے مسلسل خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے اور فوج نے باغی گروہوں پر فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اراکان آرمی گزشتہ سال سے مروک یو اور راکھین کے دیگر علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے اور حملے سے قبل اس علاقے میں کوئی تازہ جھڑپ رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔









