نیب قانون میں ترمیم

[post-views]
[post-views]

پاکستان کے قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2023 کو منظور کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں چیئرمین نیب کو بے مثال اختیارات مل گئے۔ سیاسی لوگوں نے نیب ترمیم کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں بڑے سیاسی مقاصد ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے یہ قانون یکطرفہ طور پر منظور کیا گیا، جو پہلے سے موجود طریقہ کار اور قوم کی جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

حال ہی میں منظور ہونے والی اس ترمیم نے 1999 کے قومی احتساب آرڈیننس کی جگہ لے لی ہے، اور چیئرمین کو ان افراد کے لیے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا اختیار دیا ہے جو جاری تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کرتے ہوں۔ قانون میں مزید دفعات شامل کی گئی ہیں جس کے تحت گرفتار مشتبہ افراد کو 30 دن تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے بلاشبہ عہدیداروں کے لیے دور رس نتائج ہوں گے، خاص طور پر سابق وزیر اعظم عمران خان جنہیں گرفتار کیا گیا تو پورے ایک ماہ کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے، نتیجہ کے طور پر  ان کی گرفتاری کے بعد سیاسی مہم اور انتخابی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

اس کے علاوہ عارف علوی کے حج پر جانے کے دوران یہ فیصلہ فوری طور پر لیا جانا بھی تشویشناک ہے۔ اگر بنیادی مقصد اصلاحات لانا، اور نیب کے کام کرنے کے انداز کو بہتر بنانا ہے، تو اس کے لیے بہتر اور مناسب طریقے موجود ہیں۔ اس وسعت کی کوئی بھی ترمیم اس کی خوبیوں، ضرورت اور مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے منظور کی جانی چاہیے۔

آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

تمام متعلقہ حکام کو اس طرح کی اصلاحات کی ضرورت پر بحث کرنی چاہیے، اور مکمل بحث کے بعد کسی حتمی فیصلے پر پہنچنا چاہیے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسے ذاتی عزائم اور مقاصد کے حصول کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر عوام اور ریاست کے اراکین ان ارادوں کے بارے میں فکر مند ہیں جنہوں نے اس اصلاحات کو آگے بڑھایا، تو ان کا ازالہ کیا جانا چاہیے اور تمام غلط فہمیوں کو اگر کوئی ہے تو فوری طور پر درست کیا جانا چاہیے۔ ہمیں سیاسی اصلاحات کے تقدس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos