نوکری وہ بھی سرکاری کیوں؟

[post-views]
[post-views]

مصنف: ڈاکٹر محمد کلیم

ادھر ادھر دیکھا جدھر بھی دیکھا نوکر نظر آیا اور وہ بھی سرکاری نوکر۔ ہم سب پڑھ لکھ کر مالک نہیں نوکر بننا چاہتے ہیں۔ چاہے ہم کسی دفتر میں چپڑاسی ہی کیوں نہ لگ جائیں شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کو اکثر دفتر میں نائب قاصد، ڈبل ایم اے، انجینئر یا اب تو ایم فل بھی نظر آتے ہیں کچھ دنوں تک پی ایچ ڈی یعنی ڈاکٹر صاحب ہوں گے اور افسر یہ کہیں گے ڈاکٹر صاحب چائے لائیں، ڈاکٹر صاحب بسکٹ لائیں۔ ڈاکٹر صاحب آج ٹیبل صاف نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ بقول عزیز فیصل:۔

نوکری کر رہے ہو مدت سے
تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے

کیا ہمارے کام نہ کرنے میں ساری غلطی ہماری ہے یا پھر معاشرہ بھی اس میں کوئی کردار ادا کرتا ہے۔ جب بھی کوئی لکھ پڑھ جاتا ہے تو سارے مل کر زور لگاتے ہیں کہ وہ کسی کی نوکری کر لے اور ہر گز مالک نہ بنے شاید اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ کاروبار کرنے کے لیے آپ کو رقم چاہیے کیا رقم کسی نئے کاروبار کرنے کے لیے حکومت یا دیگر مالیاتی ادارے دیتے ہیں یا کوئی لوگ اس کے کام کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رقم بینک صرف ان لوگوں کو دیتے ہیں جو رقم لے کر واپس نہیں کرتے بلکہ کھا پی جاتے ہیں اور بعد میں معاف کروا لیتے ہیں کیونکہ وہ اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ ان کے پیسے ڈوبنے کا کبھی کوئی امکان نہیں ہوتا اس لیے ان کے پیسے ہمیشہ ڈوب جاتے ہیں۔

لیکن غریب پڑھا لکھا رقم کے لیے ترستا رہتا ہے اور اس کے ذہن میں نئے خیالات ابلتے اور تڑپتے رہتے ہیں لیکن وہ کبھی رقم نہیں حاصل کر سکتا۔ کچھ لوگ رقم سود پر بھی فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے گھر یا دوسری اہم چیزیں گروی رکھتے ہیں۔ سود اتنا زیادہ ہوتا ہے 20 یا 25 فیصد کہ کبھی بھی قرض خوار اس کو اتار نہیں پاتا۔ اس طرح ساری زندگی یا تو وہ سود بھرتا رہتا ہے یا پھر گروی دی گئی چیز سود خور کھا جاتا ہے۔ اس طرح کبھی بھی نئے لوگ کاروبار نہیں کر پاتے۔

پھر ایک اور بات یہ بھی ہے جب کوئی آدمی کاروبار شروع کرتا ہے تو اس کو اتنے اداروں سے اس کی اجازت لینی پڑتی ہے جو کچھ رقم اس کے پاس ہوتی ہے وہ رشوت کی نظر ہو جاتی ہے۔ اگر کاروبار شروع کر بھی لے تو اس کو چلانے کے لیے بھی اس کو کئی اداروں کو پیسے دینا پڑتے ہیں اس لیے والدین اور سمجھدار لوگ کہتے نظر آتے ہیں بیٹا اس گند میں کیا پڑنا کوئی نوکری کر لو اور نوکر بن جاؤ۔ ایک دفعہ سرکاری نوکر بن گئے تو سمجھو تم سرکار کے گھر داماد ہو جس کو کوئی بھی نکال نہیں سکتا۔ ادھر ایک اہم بات یہ ہے کہ نوکری آپ کو سفارش کی مدد سے مل سکتی ہے لیکن کاروبار سفارش سے نہیں چلتا۔ اس لیے اس کام کو کون کرنا چاہے گا جب ہمارے ہاں سارے کام سفارش کے ذریعے ہوتے ہیں۔

ہمارا تعلیمی نظام اتنا فرسودہ ہے کہ وہ صرف آپ کو تقلید کرنے والا اور تابع فرمان قسم کا طالب علم بناتا ہے اور تخلیقی صلاحیت اجاگر کرنے سے روکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ نظام بنایا گیا تھا اس وقت ہم انگریزوں کے محکوم تھے اور ان کو ایک تابع فرمان قسم کے کلرک چاہیے تھے نہ کہ آزاد خیال لوگ جو ان کی حکومت کے خلاف تحریک چلائیں اور پھر ایک اہم بات یہ ہے کہ اس وقت زیادہ تر لوگ کسان تھے یا صرف حکومت کا کام کرتے تھے اور تیسرا کام نہ ہونے کے برابر تھا۔ کاروبار کرنے والوں کو پنجاب میں تو کمی سمجھا جاتا تھا بلکہ پورے ہندوستان کا یہی حال تھا۔ اگر اس شے کو سمجھنا ہے تو مشتاق احمد یوسفی کی کتاب زرگزشت پر ہیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ مسلمانوں کو کاروبار کرنے کی کتنی تربیت تھی وہ اس کو کتنا سمجھتے تھے۔ پس اس سے ثابت ہوا:۔

کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos