عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور قیمتیں ایک ہی دن میں گیارہ فیصد سے زیادہ گر گئیں، جو سن دو ہزار بائیس کے بعد کسی بھی دن کی سب سے بڑی کمی قرار دی جا رہی ہے۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کی، جس سے عالمی منڈی میں سپلائی کے بارے میں خدشات کم ہو گئے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت گیارہ ڈالر سولہ سینٹ کمی کے بعد ستاسی ڈالر اسی سینٹ فی بیرل پر بند ہوئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت گیارہ ڈالر بتیس سینٹ کمی کے بعد تراسی ڈالر پینتالیس سینٹ فی بیرل تک آ گئی۔ اس سے ایک روز قبل دونوں اہم عالمی معیاروں کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔
امریکی حکام کے مطابق امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک تیل بردار جہاز کو بحفاظت گزرنے میں مدد دی تاکہ عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل جاری رہے۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ کا ردعمل اس امکان کی وجہ سے سامنے آیا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل سکتی ہے۔
ادھر روس اور امریکہ کے درمیان جنگ کے ممکنہ خاتمے پر رابطوں اور سفارتی کوششوں کی خبروں نے بھی قیمتوں پر دباؤ کم کیا۔ تاہم توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو تیل کی سپلائی فوری طور پر معمول پر نہیں آئے گی کیونکہ بند کیے گئے کنوؤں اور پیداواری نظام کو مکمل بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔








