ادارتی تجزیہ
پاکستان میں ایک گہری ناخوشی اور سماجی مایوسی کا ماحول محسوس کیا جا رہا ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے حاصل شدہ ڈیٹا اور عوامی رائے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہریوں میں خوف کی ایک عام لہر موجود ہے۔ بہت سے لوگ ایسے معاشرے میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی کمزور ہے، انصاف حاصل کرنا مشکل ہے اور ادارے شہریوں کی شکایات کا مؤثر حل فراہم نہیں کر پاتے۔ اس اعتماد کی کمی نے ایک اجتماعی تشویش پیدا کر دی ہے جو روزمرہ زندگی، سماجی ہم آہنگی اور قومی بھلائی پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
اگرچہ مالی مشکلات اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال ناخوشی میں اضافہ کرتی ہیں، مگر اصل مسئلہ صرف مادی حالات تک محدود نہیں ہے۔ شہری خوف اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پبلک پالیسی کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ خوف ہمیشہ کھلے عام زیرِ بحث نہیں آتا، لیکن اس کا اعتراف سب کرتے ہیں اور یہ فیصلہ سازی، تخلیقیت اور ذاتی ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خوفزدہ معاشرہ جدت، خوابوں کی تکمیل یا قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔
اس اجتماعی سماجی تشویش کو دور کرنا لازمی ہے۔ صحت مند معاشرہ وہ ہے جہاں لوگ آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، نئے آئیڈیاز پر کام کر سکیں، اپنی پسند کے راستے اختیار کر سکیں اور خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔ صرف تبھی شہری محفوظ، بااختیار اور پر اعتماد محسوس کریں گے اور ریاست بھی مستحکم اور پائیدار ترقی کر سکے گی۔ پاکستان کی ترقی اسی ماحول کے قیام پر منحصر ہے جہاں خوف اور بے اعتمادی کی جگہ اعتماد، مواقع اور امید لے۔
رہنما، پالیسی ساز اور متعلقہ فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ سماجی بھلائی کو قومی ترقی کی بنیاد کے طور پر ترجیح دیں۔ کھلی گفتگو، ادارہ جاتی اصلاحات اور فرد کی آزادیوں کا تحفظ شہریوں کو خوف سے آزاد کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ صرف وہ معاشرہ جو تخلیقیت، آزادی اور اعتماد کی حوصلہ افزائی کرتا ہو، ریاست کی ترقی، حکمرانی کی مضبوطی اور پاکستان کے مستقبل کی حفاظت کر سکتا ہے۔













