
تحریر : طاہر مقصود
اقوام عالم عام طور پراور پاکستان خاص طورپر اس وقت ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے دوچار ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں موجود ”گلیشیرز“ مسلسل اور تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے بے موسمی اور غیر متوقع بارشیں ہوتی ہیں اور کبھی اچانک موسم شدید گرم ہوجاتا ہے اور اچانک سیلاب آجاتا ہے۔ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے ڈیم موجود نہیں ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان صرف ایک ماہ کی ضرورت کا پانی ذخیرہ کرسکتا ہے جبکہ ہمسایہ ملک ہندوستان کے پاس 170 دن اور مصر کے پاس 700دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اور اگر صورت حال یہی رہی تو آنے والے چند سالوں میں پاکستان شدید خشک سالی اور قحط سالی کا شکار ہوسکتا ہے۔
پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے ڈیم بنانا حکومت وقت کا کام ہوتا ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے لیکن موسمیاتی اور ماحولیاتی تغیر سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے درختوں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتااوراس پر خرچہ بھی کم آتا ہے۔
پاکستان جب معرض وجود میں آیا تھا تب جنگلات کی شرح 33 فی صد تھی جو اب کم ہو کر صرف 3.5 فی صد رہ گئی ہے ۔ حکومت اب کوشش کر رہی ہے کہ اس شرح میں اضافہ کیا جائے اور اس سلسلے میں شجرکاری کے لیے زور دیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں شجرکاری کیلئے عام طور پر حکومتی سطح پر مہم چلائی جاتی ہے گزشتہ حکومت نے صوبہ خیبرپختونخواہ میں ”بلین ٹری سونامی“ اور پورے ملک میں ”ٹین بلین ٹری سونامی“ کے نام سے شجرکاری کیلئے مہم چلائی اور اس سلسلہ میں شہری جنگلات بھی اُگائے گئے اور اس کے لیے جاپانی ”میاواکی“ تکنیک کا استعمال کیا گیا تھا جس کے اثرات یقیناً آنے شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک نہروں کے کناروں پر درختوں کے بڑے بڑے جھنڈ موجود تھے اور ان درختوں کی دیکھ بھال اور نئے درختوں کو لگانا محکمہ انہارو آبپاشی کی ذمہ داری تھی مگر بعد میں یہ درخت محکمہ جنگلات کو دے دیے گئے اور آج صورت حال یہ ہے کہ نہروں کے کناروں سے درخت تقریباً غائب ہوچکے ہیں شمالی علاقہ جات کی طرف جائیں تو وہاں بھی ٹمبر مافیا کی کارستانیوں کی وجہ سے پہاڑ ٹنڈ منڈ نظرآتے ہیں۔
Don’t forget to subscribe our channel & press bell icon
ماحولیاتی آلودگی، سموگ، ائیرانڈکس کوالٹی کو بہتر کرنے کے لیے درختوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے یہ ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرلیتے ہیں۔ بارشوں کے سرکل کو کنٹرول کرتے ہیں اس طرح اچانک اور بے وقت سیلاب کے خطرات کم ہوتے ہیں درختوں کی وجہ سے زمین کے کٹاؤ میں کمی آتی ہے اور جنگلی حیات کے لیے قدرتی ماحول میسرآتا ہے۔ شجرکاری کے لیے پاکستان میں زمین کی کوئی کمی نہ ہے ملک بھر میں اس وقت تقریباً چار ہزار کلومیٹر طویل ”موٹروے“ آپریشنل ہیں اور آنے والے چند سالوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ موٹرویز کے دونوں طرف کافی زمین خالی پڑی ہے جو آہنی باڑ کی وجہ سے محفوظ بھی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان بھر میں محکمہ ریلوے کی ہزاروں خالی پڑی زمین کو شجرکاری کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف موسم ہوتا ہے اسی طرح مختلف طرح کی زمین ہونے کی وجہ سے مختلف اقسام کے پھلدار درخت لگائے جاسکتے ہیں علاوہ ازیں مقامی درخت مثلاً کیکر، شیشم، بکائیں، نیلم، پیپل، کچنار، جامن، آم، بیری، پھلائی، بآسانی اُگائے جاسکتے ہیں۔ پوٹھوہار کے علاقہ میں زیتون کی کاشت بھی کامیابی سے جاری ہے۔ درختوں کی بہتات سے نہ صرف ماحولیاتی اور موسمیاتی منفی تبدیلی کو مثبت میں بدلہ جاسکتا ہے بلکہ پھل فروٹ اور لکڑی بھی حسب ضرورت میسر ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ ماحولیات، موسمیات، جنگلات اور محکمہ مواصلات کے افسران اور ماہرین مل کر مناسب زمین کیلئے مناسب پودوں کی نشاندہی کرکے ایک پالیسی ترتیب دیں اس سلسلہ میں مختلف یونیورسٹیز کے ماہرین سے بھی مددلی جاسکتی ہے۔
جب ماہرین فیصلہ کرلیں کہ کس علاقہ میں کس قسم کے درخت موزوں ہوں گے تو پھر اس فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے این جی اوز اور رضاکاروں سے مددلی جاسکتی ہے کیونکہ پاکستان میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ خلق خدا کی خدمت کے جذبہ سے سرشار اپنی کمائی کا بڑا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے جس کا اجر انسان کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔عام لوگوں کو اس پراجیکٹ میں شامل کرنے سے حکومتی خزانے پر بوجھ بھی نہیں آئے گا اور لوگوں میں احساس ملکیت اور احساس ذمہ داری بھی بڑھے گا۔افریقی ممالک اور انڈیا سمیت مختلف ممالک میں تجربہ کامیاب رہا ہے اوراسی طرح کا ایک تجربہ 2019ء میں اسلام آبادمیں یونائیٹڈ نیشن آفس اَن ڈرگز اینڈ کرائم نے مقامی رضاکاروں کی (بوائزا سکاؤٹ ایسوسی ایشن) کی مدد سے کیا تھا جوکامیاب رہا تھا۔ موٹرویز اور ریلوے کی زمین سے ملحقہ زمین کے مالکان زمینداروں کو راستہ کی مناسب سہولت دے کر اس منصوبہ میں شامل کیاجاسکتا ہے اور اس سلسلہ میں برطانیہ کی مثال موجود ہے۔ اگلے ماہ کے آخر میں شروع ہونے والا مون سون کاسلسلہ تقریباًدوہ ماہ پر محیط ہوتا ہے اور موسم برسات کا یہ سیزن شجرکاری کے لیے بہترین ہے۔









