یہ سال تو گزر گیا مگر یہ سال پاکستا ن کی تاریخ کا ایک مشکل ترین سال تھا۔سال 2022 کو اگر یوں کہہ جائے کہ یہ تلخیوں ، انہونیوں اور مختلف بیانیوں کا سال تھا تو غلط نہ ہو گا۔
سال 2022 میں پاکستان کو بہت سارے مصائب کو برداشت کرنا پڑا۔ حکومت کی تبدیلی ہو یا سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں، آئی ایم ایف کی قرض دینے کی سخت شرائط ہوں یا پھر مہنگائی کی بلند ترین سطح، بجلی کے بل ہوں یا لوڈ شیڈنگ کا عذاب غرض ہر ایک مصیبت نے پاکستان کی معیشت، عوام کو سخت نقصان پہنچایا۔
سال 2022 کا سورج پاکستان کے لیے ہرسو مشکلا ت لے کے آیا۔ سال کے آغاز میں ہی حکومت کی تبدیلی کے بیانیے آواز اُٹھانے لگے۔ عمران خان کی حکومت سے عوام ، سیاسی راہنما غرض کوئی خوش نہیں تھا۔ اس کی ایک وجہ کورونا کی وبا بھی بتائی جاتی تھی۔ حکومت اپنے مختلف بیانات میں پچھلی حکومتوں کو معیشت کی تبا ہی اور مہنگائی کا ذمہ دارٹھہراتی رہی۔ پٹرول کی آسمان سے چھوتی ہوئی قیمتیں بھی ملک کی عوام پر قیامت ڈھاتی رہیں۔ حکومت سے جب اس بابت سوال کیا جاتا تھا تو وہ کورونااور عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کا رونا روتی تھیں۔
مہنگائی کے اس دور سے سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے 13 سیاسی پارٹیوں نے اتفاق رائے سے ایک مشترکہ جماعت پی ڈی ایم بنا ڈالی۔ پی ڈی ایم راہنماؤں کے درمیان طے پایا کہ حکومت کا تختہ اُلٹنا ہے۔ پی ڈی ایم نے مشتر کہ طور پر قومی اسمبلی میں اُس وقت کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست جمع کرادی اور یوں وہ ملک میں پہلی دفعہ جمہوری طریقے سے وزیراعظم کا تختہ اُلٹنے میں کامیاب ہو گئے۔
پی ڈی ایم کا نعرہ تھا کہ وہ ملک سے مہنگائی کے جن کو ختم کر دیں گے۔ پٹرول کی قیمتیں کم کردیں گے۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کر دی جائے گی۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا قیمتیں کم ہونے کی بجائے دوگنا ہو گئی۔ معیشت مزید زبوں حالی کا شکار ہو گئی۔
پاکستان میں حکومتوں کے عدم استحکام کی وجہ سے بیرون ممالک نے بھی پاکستان سے منہ موڑ لیا۔ آئی ایم ایف نے بھی قرض دینے کے لیے کڑی شرائط رکھ دیں اور عوام جوں کی توں رہ گئی۔
جون کے مہینے سے شروع ہونے والے سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ جون میں شروع ہونے والا سیلاب پاکستانی تاریخ کا بدترین سیلاب تھا۔ سیلاب نے بہت بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ۔ زمینوں، مویشیوں اور فصلوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ابھی بھی سیلاب سے تباہ شدہ لوگوں کی بحالی ممکن نہیں ہو سکی۔ اس سیلاب نے پاکستانی معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
سال 2022 کے اختتام پر دہشت گردی بھی پھر سے پاکستان میں سر اُٹھانا شرو ع ہو گئی ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد میں ایک بم دھماکہ ہوا ، خوش قسمتی سے پولیس کی بروقت کاروائی سے اسلام آباد بڑی تباہی سے بچ گیا۔ بنوں میں دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی کے مرکز پرقبضہ کر لیا تھا جس کو کامیاب آپریشن کے بعد کلیئر کر لیا گیا۔ لکی مروت میں ایک پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں پولیس کے کچھ اہلکار شہید ہو گئے۔
غرض سال 2022 پاکستان کی معیشت ، سیاسی حالات، دہشت گردی اور باقی دوسرے معاملات کے حوالے سے مشکل ترین سال رہا۔ دعا ہے کہ سال نو 2023 پاکستان کے لیے خوشیوں کی نوید لیکر آئے۔ آمین









