عبد اللہ کامران
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن پاکستان اس میدان میں زیادہ فعال نہیں ہے۔ کراچی میں پیدا ہونے والے اور سلیکون ویلی میں قائم کمپنی ٹائیگرِس ڈیٹا کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو اویس طارق کے مطابق، پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی کمی اور مالی وسائل کی محدودیت اس ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے بزنس ریکارڈر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی مصنوعی ذہانت کے میدان میں حصہ لینے کے لیے توانائی، بنیادی ڈھانچے، اور انسانی وسائل میں طویل مدت کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
ٹائیگرِس ڈیٹا، جسے ۲۰۲۱ میں طارق اور ان کے سابقہ ساتھیوں نے قائم کیا، مصنوعی ذہانت کے لیے مضبوط ڈیٹا سسٹمز بنانے پر کام کرتی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں ۲۵ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جس میں کئی بڑی سرمایہ کار کمپنیاں شامل ہیں، جو مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ طارق کے مطابق پاکستان میں مصنوعی ذہانت میں کامیابی کے لیے صرف ہنر کافی نہیں، بلکہ بڑے پیمانے پر اور قابل اعتماد بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی مستقل فراہمی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، “مصنوعی ذہانت کے کام کے لیے بہت زیادہ بجلی چاہیے۔ اگر پاکستان اس میں سنجیدگی سے حصہ لینا چاہتا ہے تو اسے صاف اور قابل اعتماد توانائی میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی، چاہے وہ شمسی توانائی ہو یا جوہری توانائی۔ اس کے بغیر مصنوعی ذہانت کی ترقی ممکن نہیں۔” طارق نے کہا کہ مہنگے گرافکس پراسیسنگ یونٹس اور بڑے بجلی کے استعمال کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان کے لیے یہ شعبہ چیلنجز پیدا کرتا ہے۔
اگرچہ یہ مشکلات ہیں، طارق پاکستان کے امکانات کے بارے میں پرامید ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے نہ صرف لوگوں کی مہارت بڑھے گی بلکہ تعلیم میں بہتری اور نئی جدت کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا، “یہ صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام تیار کرنے کا معاملہ ہے جو لوگوں کو علم اور صلاحیت دے اور مستقبل کے لیے تیار کرے۔”
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بڑی کمپنیاں اس میں اربوں ڈالر لگا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ایلون مسک کی کمپنی نے مشیسیپی میں ۲۰ ارب ڈالر کا ڈیٹا سینٹر بنایا، یورپی کمپنی میسٹرل نے فرانس کی فوج کے ساتھ شراکت کی، اور ایمیزون نے ۵۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ یہ دکھاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کامیابی کے لیے بڑی سرمایہ کاری ضروری ہے۔
طارق نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا مہنگا ہے، یہاں تک کہ دنیا کی بڑی کمپنیوں کے لیے بھی۔ انہوں نے کہا، “مثال کے طور پر اوپن اے آئی ہر سال کمپیوٹنگ، اسٹوریج، اور نیٹ ورکنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔” پاکستان کو حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کرنی ہوگی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے ذریعے پیچھے رہ جانے کے خطرے سے بچنا ہوگا۔
ٹائیگرِس ڈیٹا عالمی مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے بڑھ رہی ہے۔ طارق نے کہا، “ہم ڈیٹا سینٹر بنا رہے ہیں، ہارڈویئر کے لیے بجلی کے مقامات کرایہ پر لے رہے ہیں، اور یورپ اور ایشیا میں مزید توسیع کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔” کمپنی کی ترقی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا میں کمپیوٹنگ تقسیم شدہ ہو رہی ہے، جو نئے مواقع پیدا کرتی ہے لیکن کچھ چیلنجز بھی لاتی ہے۔
طارق نے نوجوان کاروباری افراد کے لیے مشورہ دیا کہ وہ مارکیٹ اور صارف کی ضرورت کو سمجھیں اور اسی کے مطابق مصنوعات تیار کریں۔ انہوں نے کہا، “اکثر لوگ بغیر سمجھ کے پروڈکٹس بناتے ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کون آپ کی پروڈکٹ خریدے گا اور کیوں یہ اہم ہے۔ یہ کامیاب کاروبار کی بنیاد ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپس خود مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کریں، کیونکہ یہ تحقیق، تعلیم اور مصنوعات کی تیاری میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ طارق کا کہنا ہے کہ تخلیقی سوچ، اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور جدید اوزار کے ساتھ پاکستانی اسٹارٹ اپس عالمی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بنیادی ڈھانچے اور مالی مشکلات کا سامنا ہے، لیکن طویل مدتی سرمایہ کاری سے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں، بلکہ ملک کی ترقی اور لوگوں کی فلاح کا بھی معاملہ ہے۔ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تعلیم بہتر ہوگی، تحقیق میں اضافہ ہوگا اور پاکستان عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں شامل ہو سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ حکومتی پالیسیاں، توانائی کی منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو نجی شعبے کے اقدامات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ طارق کے مطابق جو ممالک اس شعبے میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری نہیں کریں گے، وہ دنیا کی ترقی میں پیچھے رہ جائیں گے۔
آخر میں، اگرچہ پاکستان ابھی مصنوعی ذہانت میں چھوٹا کھلاڑی ہے، لیکن حصہ لینے کا راستہ واضح ہے۔ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرمایہ کاری، اور ہنرمند لوگوں کی تربیت پہلے اہم اقدامات ہیں۔ کاروباری افراد کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق جدت پر توجہ دینی چاہیے اور مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کر کے پیداوار اور مصنوعات کو بہتر بنانا چاہیے۔ صحیح منصوبہ بندی اور مستقل سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان اس شعبے میں مواقع پیدا کر کے ترقی کر سکتا ہے۔
اویس طارق کے مطابق، مصنوعی ذہانت صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معاشرت اور معیشت کو ترقی دینے والا ذریعہ ہے۔ پاکستان کے لیے اس میں حصہ لینے کا سفر صبر، بصیرت اور مستقل عزم کا متقاضی ہے، اور جو لوگ سمجھداری سے سرمایہ کاری کریں گے، انہیں ملازمتوں، تعلیم، جدت اور عالمی مقابلے میں کامیابی سمیت بہت سے فوائد مل سکتے ہیں۔













