ارشد محمود اعوان
جب امریکہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر رہا ہے، تو پاکستان کی قیادت نے اپنے مغربی ہمسائے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کی کھل کر اور اصولی بنیادوں پر مخالفت کی ہے۔ یہ مؤقف، جو ریاستِ پاکستان کی اعلیٰ ترین سطح سے سامنے آیا ہے، نہ صرف علاقائی اتفاقِ رائے کے مطابق ہے بلکہ پاکستان کے اپنے قومی مفادات اور ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات سے بھی ہم آہنگ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر مسلسل مکالمہ اور سفارتی رابطہ ناگزیر ہے۔ اسی طرح وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب سے بات چیت میں واضح کیا کہ سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ دفترِ خارجہ پاکستان نے بھی ملک کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور ایران کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سختی سے مخالفت کی۔
پاکستان کا یہ مؤقف خطے کے دیگر اہم ممالک کے نقطۂ نظر سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں نے واضح اعلان کیا ہے کہ ان کی سرزمین یا تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ترکی نے بھی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، جہاں ترک وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب کی میزبانی کی تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور کسی بڑے علاقائی تصادم کو روکا جا سکے۔
یہ علاقائی ہم آہنگی اس اجتماعی شعور پر مبنی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے نتائج سب کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ پاکستان کے لیے خطرات خاص طور پر زیادہ ہیں، کیونکہ اس کی ایران کے ساتھ طویل اور غیر محفوظ سرحد موجود ہے، جہاں کسی بھی بدامنی کے اثرات فوری طور پر پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاریخی طور پر پاکستان اور ایران کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا ہے، مگر دونوں ممالک گہرے تاریخی، ثقافتی اور روحانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں کسی خودمختار ہمسائے کے خلاف بیرونی مداخلت کی مخالفت کرنا پاکستان کی اخلاقی اور تزویراتی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔
خلیجی ریاستوں کی تشویش بھی قابلِ فہم ہے۔ ایرانی اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈے جوابی کارروائی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ یہ امکان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے نہایت تشویشناک ہے، کیونکہ ایک غیر مستحکم خلیج فارس انہیں سکیورٹی اور معیشت دونوں حوالوں سے شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ امریکی دباؤ کی خبروں کے باوجود، سعودی وزیر دفاع کا حالیہ دورۂ واشنگٹن اس پیچیدہ سفارتی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے باوجود خلیجی ممالک نے ایک اور تباہ کن جنگ میں گھسیٹے جانے سے انکار برقرار رکھا ہے۔
امریکہ کو بھی اپنی موجودہ حکمتِ عملی کی حدود اور خطرات کو سمجھنا ہوگا۔ یہ تصور کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی مختصر یا محدود رہے گی، حقیقت سے بعید ہے۔ ایسی کسی جنگ کے اثرات نہ صرف پورے خطے کو تباہ کر دیں گے بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً توانائی کی منڈیوں کو بھی شدید نقصان پہنچائیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ماضی کی مداخلتوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ جنگیں شاذ و نادر ہی منصوبے کے مطابق چلتی ہیں، اور ان کی انسانی و معاشی قیمت اندازوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
اسی کے ساتھ ایران کو بھی اپنے اندرونی مسائل کا سامنا ہے، خصوصاً انسانی حقوق اور اختلافِ رائے کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے عالمی تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ مسائل حقیقی ہیں اور ان پر توجہ ضروری ہے، مگر اصلاحات کا راستہ ایرانی عوام کو خود طے کرنا چاہیے، بیرونی دباؤ یا مداخلت کے بغیر۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی طاقتوں کی مسلط کردہ تبدیلیاں اکثر عام لوگوں کے لیے مزید عدم استحکام اور مشکلات کا سبب بنتی ہیں، نہ کہ حقیقی بہتری کا۔
ان تمام حقائق کی روشنی میں، پاکستان کی جانب سے مکالمے اور عدم مداخلت کی وکالت محض سفارتی رسمیّت نہیں بلکہ جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ماحول میں ایک دانشمندانہ اور ضروری آواز ہے۔ یہ پورے خطے کے اس احساس کی ترجمانی کرتی ہے کہ امن اور استحکام کا راستہ طاقت یا بیرونی مداخلت نہیں بلکہ مسلسل رابطے، بات چیت اور خودمختاری کے احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔
آخرکار، یہ بحران علاقائی اور عالمی قوتوں کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ پاکستان کا مؤقف، جس کی تائید اس کے کئی ہمسائے بھی کرتے ہیں، اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایک ایسے خطے میں جو پہلے ہی بے شمار جنگوں کا شکار رہ چکا ہے، دانش، ضبط اور پرامن حل کے لیے نئے عزم کی فوری ضرورت ہے۔









