ادارتی تجزیہ
آج پاکستان کا سیاسی منظرنامہ زیادہ تر جماعتی کارکنان تک محدود ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے عام شہری سیاستی نظام سے الگ ہو چکے ہیں۔ حالیہ پنجاب ضمنی انتخابات کے مشاہدین نے نوٹ کیا کہ کم ووٹر ٹرن آؤٹ عوام میں انتخابی شفافیت کے حوالے سے گہری شکایات کی عکاسی کرتا ہے۔ غیر سرکاری رپورٹوں کے مطابق کئی حلقوں میں حصہ داری 35 فیصد سے بھی کم رہی، جو صوبائی انتخابات کے تاریخی اوسط سے بہت کم ہے۔ یہ کمی صرف ووٹرز کی بے رغبتی نہیں بلکہ ان اداروں پر نظامی عدم اعتماد کی علامت ہے جو جمہوریت کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔
معتبر نگرانی کرنے والے ادارے اور تھنک ٹینک بھی سرکاری انتخابی اعداد و شمار کی صداقت پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد، جیسے مجموعی حصہ داری اور ووٹوں کی گنتی، پر عام طور پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، اور تجزیہ کار اختلافات اور تضادات کی نشاندہی کر رہے ہیں جو نتائج کی معتبرت کو متاثر کرتے ہیں۔ بغیر قابل تصدیق اعداد و شمار کے، عوامی رجحان یا منتخب نمائندوں کی نمائندگی کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے پالیسی سازی متاثر ہوتی ہے اور عوام کا حکومت پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر، جب عوام انتخابات کو معنی خیز سمجھتی تھی تو پاکستان میں شہری شمولیت زیادہ تھی۔ ریسرچ اداروں جیسے کہ ریپبلک پالیسی کی سابقہ سرویز کے مطابق زیادہ تر ووٹرز نے سیاسی نظام پر مشروط اعتماد ظاہر کیا تھا۔ تاہم حالیہ رجحان یہ بتاتا ہے کہ ادارہ جاتی معتبرت، جو جمہوری قانونی حیثیت کی بنیاد ہے، کمزور ہو رہی ہے۔ شہریوں اور سیاسی اشرافیہ کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلے انتخابات کو عوامی رائے کے حقیقی عکس کی بجائے محض سیاسی کارکنوں کے درمیان مقابلے میں تبدیل کر سکتا ہے۔
پالیسی اصلاحات میں شفافیت، سخت آڈٹ اور آزاد نگرانی کے نظام کو ترجیح دینا ضروری ہے تاکہ انتخابی عمل پر اعتماد بحال ہو سکے۔ بغیر معتبر اور قابل تصدیق اعداد و شمار کے، جمہوری جوابدہی صرف ایک خواہش بن کر رہ جاتی ہے۔ اداروں کو مضبوط بنانا اور شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ پاکستان عوام کے اعتماد کو دوبارہ حاصل کرے اور شہریوں کو سیاسی نظام سے دوبارہ جوڑ سکے۔













