معاشی پالیسیوں اور کرپشن پر احتجاج کے بعد بلغاریہ میں وزیرِ اعظم مستعفی

[post-views]
[post-views]

بلغاریہ میں کئی ہفتوں تک جاری حکومت مخالف مظاہروں اور عوامی دباؤ کے بعد وزیرِ اعظم روزن زیلیازکوو مستعفی ہو گئے۔ دارالحکومت صوفیہ سے موصولہ غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آج وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ متوقع تھی، تاہم روزن زیلیازکوو مستعفی ہو گئے، جس کے بعد یہ ووٹنگ ملتوی ہو گئی۔

خبر ایجنسی کے مطابق مظاہروں کی بنیادی وجوہات حکومت کی معاشی پالیسیوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزگار کے مواقع کی کمی اور کرپشن پر عوامی ناراضگی تھیں۔ احتجاج ملک کے بڑے شہروں میں کئی ہفتوں تک جاری رہا اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ عوامی دباؤ کے نتیجے میں وزیرِ اعظم مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے، تاکہ سیاسی بحران کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

ماہرین سیاسی امور کے مطابق استعفیٰ کے بعد ملک میں عبوری حکومت قائم ہو سکتی ہے یا جلد انتخابات کا انعقاد ممکن ہے۔ یہ واقعہ بلغاریہ میں موجودہ سیاسی عدم استحکام، عوامی بے چینی اور حکومت کے معاشی اقدامات پر تنقید کی عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک کے اندرونی مسائل، کرپشن اور معاشی بحران کے حل کے لیے نئی قیادت کے تحت مستحکم سیاسی ماحول کی ضرورت ہے۔

وزیرِ اعظم کا مستعفی ہونا نہ صرف داخلی سیاست پر اثر ڈالے گا بلکہ یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بلغاریہ کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ نئی حکومت کو داخلی اصلاحات اور اقتصادی پالیسیوں کو مستحکم کرنا ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos