پولیس ریفارمز کی نہیں، پولیس نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے

[post-views]
[post-views]

تحریر: طاہر مقصود

مصنف پنجاب پولیس سے ریٹائرڈ ایس ایس پی ہیں اور اب ریپبلک پالیسی میں چیف ایڈیٹر اردو فرائض سر انجام دے رہےہیں۔

قیام پاکستان کے بعد سب سے زیادہ توجہ شاید پولیس نظام میں اصلاحات پر دی گئی۔ اس سلسلہ میں تقریباً دو درجن کے قریب کمیشن اور کمیٹیاں بنائی گئیں تھیں جن میں سے جسٹس جی بی کانسٹائنٹن کی سربراہی میں بننے والا پولیس کمیشن آف1961۔ میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا کے نیچے پاکستان پولیس کمیشن1969 (آرمی کے اسپیشل سروسز گروپ کے قیام کے پیچھے انہی جنرل مٹھا کی سوچ کار فرماتھی۔ )ایم اے کے چوہدری جو مشرقی پاکستان کے آخری انسپکٹر جنرل پولیس تھے (جنہوں نے پولیس نگ ان پاکستان کے نام سے کتاب بھی لکھی ہے)۔ ان  کی سربراہی میں بننے والا ’’پولیس اسٹیشن انکوائری کمیشن 1976‘‘ ان کے  علاوہ بھی بہت سے شہرہ آفاق لوگوں نے اس موضوع پر تابع آزمائی کی مگر آج بھی پولیس ریفارمز کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی پہلے دن تھی یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ درج ذیل آرٹیکل میں اس کی وجوہات اور ممکنہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

       قیام پاکستان کے وقت نئی بننے والی ریاست کے مختلف علاقوں میں پولیس کے لیےمختلف قوانین تھے جن کو بہتر کرنے کی ضرورت تھی مگر1955میں صوبے ختم کرکے ون یونٹ قائم کردیا گیا اس طرح 1955سے1970تک ’’ون یونٹ ‘‘کی وجہ سے پولیس کے لئے جو بھی اصلاحات تجویز کی گئیں وہ وفاقی طرز کی کہی جا سکتی ہیں جو پاکستان کے مو جو دہ آئین کے مطابق نہ تھیں ۔

            پولیس ریفارمز یا اصلاحات کے عام فہم معانی پولیس کے موجودہ نظام میں بہتری کے لئے تبدیلی لانا ہیں۔سب سے پہلے پولیس کے وجود کے لئے آئینی دفعات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے تمام ریاستی ادارے اور تمام حکومتیں 1973 کے آئین میں دی گئی ہدایات اور اصولوں کے تابع ہی قائم ہوسکتے ہیں۔

پولیس کا تنظیمی ڈھانچہ

          آئین پاکستان کا آرٹیکل240 سروسز کو ڈیل کرتا ہے۔اس آرٹیکل میں تین طرح کی سروسز کا ذکر ہے۔

               ۔1۔ فیڈریشن کی سروسز اور اس کے متعلقہ پوسٹیں

               ۔2۔صوبوں کی سروسز اور اس کے متعلقہ پوسٹیں

               ۔3۔فیڈریشن اور صوبوں کی مشترکہ سروسز اور ان کے متعلقہ صوبوں اور فیڈرشن کی مشترکہ پوسٹیں(آل پاکستان سروسز )

               اب یہ جاننے کے لیے کہ کونسی سروس اور پوسٹ صوبے کے متعلقہ ہے اور کونسی فیڈریشن یا وفاق سےمتعلقہ ہے،آرٹیکل 70 (4)اور آئین کے شیڈول 4 کو دیکھنا پڑے گا۔شیڈول 4 میں فیڈرل قانون ساز لسٹ کا ذکر ہے جس کے دو حصے ہیں،پہلے حصہ میں 59 مضامین ہیں مگر اس میں پولیس شامل نہ ہے اس لسٹ کا دوسرا حصہ 18 مضامین پر مشتمل ہے اور یہ حصہ ’’کونسل آف کامن انٹرسٹ “کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ،کہا جاسکتا ہے کہ یہ مضامین وفاق اور صوبوں میں مشترکہ ہیں مگر پولیس اس حصہ میں بھی موجود نہ ہے۔چونکہ اٹھارویں آئینی ترمیمی ایکٹ نمبر 10 آف 2010 کی روح سے ’’کنکرنٹ “لسٹ ختم ہو چکی ہے تو با آسانی کہا جا سکتا ہے کہ جو مضامین فیڈرل قانون ساز لسٹ میں شامل ہیں ان کے علاوہ تمام دیگر معاملات صوبوں سے متعلقہ ہیں اور ان کے متعلقہ قانون سازی کا اختیار اور ذمہ داری صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کی ہے۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

آئین کےآرٹیکل90 اور99 کے تحت وفاقی حکومت نے اور آرٹیکل139 کے تحت صوبائی حکومتوں نے رولز آف بزنس بنائے ہیں اس طرح یہ ایک آئینی دستاویز ہے اور ان رولز پر عمل کرنا ہر فرد پر لازم ہے،وفاقی حکومت کے1973کے رولز آف بزنس کے شیڈول 2 کے سیریل نمبر18 پر داخلہ ڈویژن کا ذکر ہے جس کے اندراج نمبر12 پر پولیس کمیشن اور پولیس ریوارڈ کا ذکر ہے اندراج20 فیڈرل پولیس فورس کی ’’اسٹیب“کے متعلقہ معاملات کو دیکھنا اور اندراج 30 کے مطابق نیشنل پولیس اکیڈمی کا کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس ہے،پنجاب گورنمنٹ رولز آ ف بزنس 2011شیڈول 2کے اندراج نمبر 38(13)کے مطابق پولیس کا قیام اور پولیس رولز وغیرہ اور پولیس کے متعلقہ دیگر تمام کام صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ ہے،دیگر صوبوں میں بھی پولیس صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ کی معرفت صوبائی حکومتوں کی ہی ذمہ داری ہے۔اس سے یہ تو واضع ہے کہ پولیس سروس کاقیام ،تربیت ،ترقی ،تعیناتی ،تنخواہ ، پنشن وغیرہ کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہے اور وفاق صرف وفاقی علاقوں کے لیے ہی پولیس قائم کر سکتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ پولیس ریفارمز کا سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ پولیس کا تنظیمی ڈھانچہ آئین کے عین مطابق ہو،اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کے ذریعہ صوبائی پولیس سروس کا قیام عمل میں لایا جائے۔کیونکہ وفاقی افسران (پی ایس پی)ہر طرح کے فوائد تو صوبہ سے لیتے ہیں مگر صوبائی حکومت ان افسران کے خلاف کوئی انضباطی کاروائی نہیں کر سکتی۔پاکستان کے آئین کے مطابق حق حکمرانی پاکستان کے عوام کے پاس ہے اور وہ اپنا یہ حق اپنے منتخب نمائندوں کی معرفت استعمال کرتے ہیں ۔مگر یہاں وزیراعلیٰ عوام کا نمائندہ منتخب ہو کر حکومت تو کر سکتا ہے لیکن خود کے ماتحت وفاقی افسروں کی کسی کوتاہی پر ان کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی نہیں کر سکتا۔

پولیس آرڈر 2002 کی شکل میں پولیس ریفارمز کے لیے ایک بہترین دستاویز پیش کی گئی تھی لیکن یہ ایک وفاقی قانون تھا جو اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد غیرمؤثر ہو گیا تھا ،اس وقت تمام صوبوں نے اپنا اپنا پولیس قانون بنا لیا ہوا ہے جو تقریباً اصل پولیس آرڈر کی نقل ہی ہے البتہ اس میں سے پولیس پر عوامی نگرانی والا حصہ حذف کر دیا گیا ہے۔

        لوگوں کی جان، مال اور آزادی حفاظت پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔کمیونٹی سے قریبی رابطہ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں معاون ثابت ہو گا۔پاکستان کے ہر صوبہ کی اپنی علیحدہ تاریخ،تہذیب اور رسم و رواج ہیں لہٰذا صوبہ کی روایات ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوے پولیس کے متعلقہ قوانین بنائے جائیں۔ 

بھرتی اور ٹریننگ :۔

اس وقت ہر شعبہ زندگی میں ماہرین کی مانگ ہے لیکن پولیس میں آج بھی جنرل کیڈر پر بھرتی کی جارہی ہے اور ایک ہی افسر پولیس کے متعلقہ ہرطرح کا کام کررہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ جنرل کیڈر پر بھرتی کی بجائےمخصوص کیڈر مثلاً شعبہ تفتیش (جرائم کی اقسام کے لحاظ سے مذید ذیلی یونٹ)گشت و ناکہ بندی ،ٹریفک غیر قانونی احتجاج اور ہنگاموں سے نمٹنے کے لئے علیحدہ فورس ،جرائم پیشہ افراد کی نگرانی ،پروٹو کول اور سکیورٹی ڈیوٹی کمیونٹی سے رابطہ وغیرہ کے لئے اور شہری اور دیہی علاقوں کے لیے علیحدہ بھرتی اور تربیت کی جائےاور ہر افسر اپنے کیڈر میں اعلیٰ ترین عہدہ تک ترقی کا حق رکھتاہو۔

آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

آفسر مہتمم کی تعیناتی:۔

انگریز دور میں سب انسپکٹر کو آفسر مہتمم تھانہ تعینات کیا جاتا تھا تو اسے گورنر کے دربار میں کرسی پیش کی جاتی تھی اور آب سب انسپکٹر کو ایس ایچ او تو لگایا جاتا ہے مگر ایس پی بھی اسے دفتر کے باہر کھڑا رکھتا ہے۔تھانہ کا انچارج کم از کم گریڈ 17 کا افسر لگایا جائے اور اسے خاص حد تک مالی خود مختاری بھی دی جائے۔

ایف آئی آر کا اندراج:۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک جدید رپورٹنگ سنٹر ہو جہاں پر ایف آئی آر درج ہوکر خود کار نظام کے تحت متعلقہ تفتیشی یونٹ میں برائے تفتیش منتقل ہوجائے۔

  تشدد کا خاتمہ:۔

پولیس میں تشدد اور غیر قانونی حراست کی ایک بڑی وجہ مال مسروقہ کی برآمدگی ہے اور برآمدگی ہو جانے کے بعد کوئی مدعی یاگواہ ملزم/ملزمان کے خلاف گواہی دینے کے لئے عدالت میں جانا پسند نہ کرتا ہے۔اس ذمہ داری سے پولیس کو آزاد کیا جائے اور بوقت فیصلہ مدعی کے نقصان کے معاوضہ کی ادائیگی کا فیصلہ عدالت کرے اس سلسلہ میں خاص مالیت سے زائد سامان کی انشورنش کرائے جانے کا قانون بنایا جائے۔

فرسودہ طریقہ تفتیش:۔

تفتیشی افسران ضمنی کی صورت میں ایک لمبی چوڑی کہانی لکھتے ہیں اور آخر میں ساری کہانی کو ماننے یا مسترد کرنے کا اختیار تفتیشی کے پاس ہوتا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ تفتیشی کے صوابدیدی اختیار ات کو محدود کیا جائے اور ضمنی کی جگہ مقدمہ اور جرم کی نوعیت کے لحاظ سے پروفارمامرتب کیے جائیں ابتدائی طور پر معمولی جرائم کے مقدمات سے شروع کیا جا سکتا ہے۔

فرانزک سائنس لیبارٹری:۔

مجرمان کی نشاندہی اور جرائم کی بیخ کنی میں فرانزک سائنس کا کلیدی رول ہے ضروری ہے کہ ہر ضلع کی سطح پر فرانزک سائنس لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جائے۔

سیاسی اثر ورسوخ سے آزادی:۔

برطانوی حکمرانوں نے عوام کو دبانے کے لئے پولیس کو استعمال کیا ، آزادی کے75 سال بعد بھی ہر صاحب اختیار اپنے مخالفین(سیاسی ، ذاتی) کو دبانے کے لئے پولیس کو بے دریغ استعمال کرتا ہے اور بدنامی پولیس کے حصہ میں آتی ہیں۔ پولیس کے ہر ریجن کا انچارج ایک گریڈ21 کا افسر لگا دیا جائے جو اپنے انتظامی اور مالی معاملات میں آزاد ہو اور صوبائی سطح پر پولیس ڈائریکٹوریٹ گریڈ 22کے افسر کے نیچے ہو۔اس سے پولیس کے کام میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہو سکے گا،سیاسی مداخلت کی ایک وجہ ٹرانسفر پوسٹنگ بھی ہوتی ہے ، آفسر مہتمم تھانہ اور بالا تمام افسران کی تعیناتی ایک کمیٹی کو تفویض کر دی جائے ۔

  روائتی قوانین میں تبدیلی:۔

پولیس ،نظام عدل کا بنیادی اور لازمی جزو ہے اور پاکستان میں رائج قوانین (تعزیرات پاکستان ، مجموعہ ضابطہ فوجداری قانون شہادت تھوڑی ترمیم کے ساتھ) تقریباً سو اور ڈیڑھ سو سال پرانے ہیں ،ضروری ہے کہ ان قوانین کو عصر حاضر کےتقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ واضح ہے کہ پولیس کا موجودہ نظام فرسودہ ہو چکا ہے جو عصر حاضر کے تقاضوں سے مطابقت نہ رکھتا ہے۔ اس میں اصلاح کی ایک ہی صورت ہے کہ پولیس نظام کا پورے کا پورا ڈھانچہ ہی تبدیل کیا جائے بصورت دیگر جو بھی اصلاحات کی جائیں گی نتیجہ صفر ہی ہو گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos