مہنگائی، گورننس بحران اور سیاسی خلا: پی ٹی آئی کے لیے نیا موقع؟

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

پاکستان میں حالیہ پٹرول قیمتوں میں اضافہ اور مسلسل گرتی ہوئی گورننس نے عوامی اضطراب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ موجودہ حکومتی اتحاد، جو پہلے ہی دھاندلی کے الزامات کے باعث جمہوری ساکھ کے بحران سے دوچار ہے، اب مزید دباؤ میں ہے۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے کئی کارکنان بھی اس تاثر سے متفق نظر آتے ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ عوامی مینڈیٹ کے بغیر مسلط کیا گیا۔

ایسے میں جب عوام کی بڑی تعداد مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، بیروزگاری اور ناقص حکمرانی سے نالاں ہے، تو ایک معمولی غلطی بھی حکومت کے خلاف شدید ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔ عوامی اعتماد تیزی سے کم ہو رہا ہے، اور عوام کا ریاستی و حکومتی اداروں پر یقین متزلزل دکھائی دیتا ہے۔

Please, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com for quality content.

یہ وہ سیاسی خلا ہے جسے تحریک انصاف حکمت عملی کے تحت ایک نئے بیانیے اور احتجاجی تحریک کی صورت میں مؤثر انداز سے استعمال کر سکتی ہے۔ اگر پارٹی سنجیدگی، نظم و ضبط اور عوامی مسائل پر مبنی مہم کے ساتھ آگے بڑھے، تو یہ موقع اس کے لیے نئی سیاسی زندگی بن سکتا ہے۔

حکومت کے لیے صورتحال نازک ہے۔ اس کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں۔ ہر پالیسی فیصلہ، خاص طور پر وہ جو عوامی زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہو، سخت تنقید کی زد میں ہے۔ جب جمہوری مینڈیٹ پر سوالات موجود ہوں، تو گورننس کی ناکامی کو صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ نظام کی ناکامی سمجھا جاتا ہے۔

اگر پی ٹی آئی موجودہ صورتحال کا درست سیاسی و عوامی تجزیہ کرتے ہوئے تحریک چلائے، تو یہ نہ صرف حکومتی پوزیشن کو مزید کمزور کرے گی بلکہ تحریک انصاف کے بیانیے کو دوبارہ عوامی سطح پر مضبوط کر سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت کو فوری طور پر گورننس بہتر بنانے اور اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ عوامی بےزاری ایک منظم تحریک میں بدل سکتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos