آذربائیجان کے صدر اہلم علی یف نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی قسم کے بین الاقوامی یا امن فوجی مشن میں حصہ نہیں لے گا، جس میں غزہ کے لیے بین الاقوامی امن فورس بھی شامل ہے۔
صدر علی یف نے آذری ٹی وی چینلز سے گفتگو میں بتایا کہ امریکا کی ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ میں امن فورس کی ممکنہ کارروائی کے حوالے سے ان سے 20 سے زائد سوالات کیے، تاہم آذربائیجان نے کسی بھی فوجی شمولیت کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے ملک کے علاوہ کسی بھی فوجی مہم میں حصہ لینے پر غور نہیں کر رہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ نومبر میں آذربائیجان کے ایک سرکاری ذرائع نے اعلان کیا تھا کہ جب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، آذربائیجان کسی بھی بین الاقوامی امن فورس میں فوجی بھیجنے سے گریز کرے گا۔
دوسری جانب، متعدد مسلم اکثریتی ممالک کے سفارتکار غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کے قیام کے حق میں ہیں، کیونکہ ان کے مطابق یہ فورس فلسطینی عوام کی حفاظت اور زندہ رہنے کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔ ایک سفارتکار نے کہا، ’’اسرائیل نے غزہ میں 70,000 سے زائد افراد ہلاک کیے ہیں، اور صرف ایک واضح مینڈیٹ کے ساتھ بین الاقوامی فورس ہی اس نسل کشی کو روک سکتی ہے۔‘‘









