
مصنف: نیر مصطفی
سن دو ہزار چھ کی بات ہے۔ اپریل کے آخری دن تھے۔ ویہلے پن سے عاجز آ کر بطور پرائیویٹ امیدوار بی اے کا امتحان دینے کی ٹھانی تو معلوم ہوا ٹرپل فیس کے ساتھ داخلہ بھجوانے کی آخری تاریخ آ چکی ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا۔بھاگم بھاگ فیس جمع کروائی، ایڈمیشن فارم بھرا اور سرائیکی،جرنلزم اور عربی اختیاری کے ساتھ داخلہ بھجوا دیا۔ اگلے ہی مہینے امتحان تھے۔ میں تیاری کرنے کے بجائے ”نرکھ میں نرتکی“ کا مسودہ دیکھتا رہا۔ اللہ اللہ کر کے کتاب مکمل ہوئی تو امتحان شروع ہونے میں تین دن باقی تھے۔ یونیورسٹی میں تعینات ایک سینئر دوست سے انگریزی کا پرچہ حل کرنے کی گائیڈ لائن چاہی تو انہوں نے پرچے پر نشانی لگانے کا طریقہ بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ممتحن ان کا پھپیرا بھائی ہے۔ ان کے خلوص اور نیک نیتی سے انکار نہ تھا لیکن ان کی دیانتداری اور کردار پر سے ایمان جاتا رہا۔ امتحانی نظام کی شفافیت بھی عیاں ہو گئی۔
آخری پیپر سرائیکی (ب) کا تھا۔ پیپر سے ایک رات قبل میرے ایک قریبی دوست نے خواب دیکھا کہ میرا انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز میں داخلہ ہو گیا ہے اور میں سینکڑوں دوشیزاؤں کے جھرمٹ میں بیٹھا، منصور ملنگی اور عابدہ پروین کے گیت سنا رہا ہوں۔ دو ماہ بعد نتیجہ آیا اور میں بامشکل اکسٹھ فی صد نمبر لے کر پاس ہوا تو اسی دوست نے گندا سا منہ بنا کر شعبہ اردو میں داخلے کا مشورہ دیا۔ مشورہ تو صائب تھا لیکن اس میں تخلیقی آزادی سلب ہونے کا اندیشہ تھا، چنانچہ میں نے ماس کمیونی کشن کا رخ کیا۔
یہاں آ کر کافی مایوسی ہوئی۔ ڈیپارٹمنٹ کا ماحول سخت دقیانوسی تھا۔ ایک شہزاد صاحب کو چھوڑ کر ہر طرف میڈیاکا راج تھا۔ پھر سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ ماس کمیونی کشن سے صرف صحافت مراد لی جاتی ، ڈرامہ اور فلم خارج از نصاب تھے۔ ادب کو بھی حقیر گردانا جاتا۔ انہی دنوں ایک سینئر پروفیسر نے میرا افسانہ ”کاشی“ پڑھنے کے بعد مجھے ڈیپارٹمنٹ سے ایکس پیل کرنے کی قرارداد پیش کی، جسے صدرِ شعبہ جناب کریم ملک نے یہ کہتے ہوئے ویٹو کر دیا کہ جرم نشتر میڈیکل کالج کی حدود میں ہوا ہو تو زکریا یونیورسٹی میں اس کی سزا نہیں دی جا سکتی ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ پروفیسر بالٹک کے ساحل پر ایک ایسے ہوٹل میں ویٹری کرتے رہے ہیں، جس کا اردو ترجمہ ”ننگوں کا ریستوران“ بنتا تھا اور جہاں صرف برہنہ افراد کو بیٹھنے اور سرو کرنے کی اجازت تھی۔مزید یہ کہ مندرجہ بالا دونوں واقعات کے راوی خود صدرِ شعبہ تھے، چنانچہ اِن کی صحت مشکوک ہے۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/aik-nakam-sarkari-afsar-ki-dairy-ka-ek-warq/
کریم ملک صاحب کا تعلق ان افراد میں سے تھا، جو بیوروکریٹک نشست و برخاست کے بجائے ڈیرہ داری کو پسند کرتے تھے۔ بنیادی طور پر خوش اخلاق اور ٹھنڈے میٹھے آدمی تھے ۔ قد، اوسط سے کچھ کم تھا، لہذا بڑی ہیل والے جوتے پہنتے۔ایک خفیف سی مسکراہٹ ہمہ وقت ان کے چہرے پر رقصاں رہتی۔بلند فشار خون کے عارضے میں مبتلا تھے، لہذا غصے سے اجتناب کرتے۔ کبھی غصہ آ بھی جاتا تو جے ڈاٹ استانا کی طرح قہقہہ لگاتے اور ”اینی ویز“ کہہ کر ٹاپک بدل دیتے۔ ان کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا تھا۔ان کی خواہش ہوتی کہ ہر وقت دو چار طلباء و طالبات ان کے دفتر میں بیٹھے رہیں۔ پڑھاتے خود تھے،لیکن پیپر ان کا پی اے چیک کرتا۔ان کی ہدایت تھی کہ کسی کو ستر فی صد سے زائد نمبر نہ دیے جائیں۔ آخری وقت تک لسٹ سنبھال کر رکھتے تاکہ کسی وی آئی پی کا فون آ جائے تو ستر کو نوے کیا جا سکے۔ دوستوں کی بھی لاج رکھتے۔ حوصلہ مند طلباء و طالبات منت ترلہ کرکے نمبر بڑھواتے، مجھ جیسے نالائق اور کم حوصلہ افراد کو پینسٹھ پر اکتفا کرنا پڑتا۔
پہلے سمسٹر میں ”کالم، ایڈیٹوریل، فیچر“ پڑھایا،لیکن آخری کلاس تک ان تینوں کا فرق واضح کرنے میں ناکام رہے۔ ان کا زریں قول تھا کہ کالم نگار کو امیر اور اصیل ہونا چاہیے تاکہ اسے خریدا نہ جا سکے۔خود بھی کالم نگار تھے۔ بالعموم سماجی اور ثقافتی موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے۔ “درِ احساس پر دستک“ کے عنوان سے ان کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوا ، جس کی چند کاپیاں ڈیپارٹمنٹ کی لائبریری میں موجود تھیں ۔میں نے بھی وہیں سے کتاب مستعار لے کر پڑھی۔ بلند آہنگ نثر لکھتے تھے، لیکن جملوں کو مربوط نہ کر پاتے۔
مجھ پر ان کا خاص دستِ شفقت تھا۔ جب کبھی کوریڈور میں آمنا سامنا ہوتا تو بہت پیار سے ملتے اور دفتر نہ آنے کا شکوہ کرتے، جسے میں ایک شرمیلی سی مسکراہٹ سے ٹال دیا کرتا۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے کوریڈور میں ملنا اور شکوہ کرنا ترک کر دیا۔ عناد پرست ہوتے تو مجھے نشانِ عبرت بنانے کی کوشش کرتے لیکن اذیت پسندی ان کے مزاج کا حصہ نہیں تھی۔ بس اتنا فرق پڑا کہ لیکچر کے دوران مجھے خفگی سے دیکھتے۔ پھر ایک طویل قہقہہ لگاتے اور “اینی ویز“ کہہ کر کسی اور طالب علم کی جانب متوجہ ہو جاتے۔
دوسرے سمسٹر میں انہوں نے میڈیا ہسٹری اور پریس لاز پڑھائے۔ چونکہ اچھے وقتوں کے ایل ایل بی تھے لہذا ہمیں توقع تھی کہ پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس 1962 اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی رولز 2002 کی بابت مناسب رہنمائی فرمائیں گے، لیکن اس بار بھی مایوسی ہی ہاتھ آئی ۔ تیسرے سمسٹر میں انہوں نے ایک کی بجائے دو سبجیکٹ پڑھانے کا فیصلہ کیا تو ہم جیسے بے آسرا اور کم حوصلہ طلباء کی چیخیں نکل گئیں۔ جی پی کی تباہی صاف نظر آ رہی تھی۔ رورل کمیونی کشن میں انہوں نے محض اتنا بتایا کہ کچی نالیوں کو پختہ کیسے کیا جائے اور بھینسوں سے عزت بچا کر نہر میں تیراکی کرنا کتنا مشکل،مگر دلچسپ کام ہے۔ پبلک ریلیشنز پڑھاتے ہوئے خوشامد کے نت نئے گر بتاتے رہے۔ کچھ کے بارے میں تو یہ بھی بتایا کہ ان کی ذاتی اختراع ہے۔ مڈ ٹرم کے پیپر ہوئے تو رورل کمیونی کشن میں ایک ہی سوال کو الفاظ بدل کر تین بار پوچھا گیا تھا۔ کہنے کو تین سوال تھے ،مگر جواب سب کا ایک ہی تھا۔ پہلا سوال، دوسری بار حل کرنے بیٹھا تو ایکدم شدید غصہ آ گیا۔ خود پر خوب لعنت ملامت کی ۔ اتنے میں ملک صاحب کمرہ امتحان میں داخل ہوئے تو میں نے فوراً اس امر کی نشان دہی کی ۔ میرا شکوہ سن کر کافی دیر تک ہنستے رہے۔ پھر یہ کہہ کر چل دیے کہ مڈ تو دور،فائنل ٹرم میں بھی یہی ایک سوال پوچھا جائے گا۔ خاکسار نے اسی منہ سے مڈ ٹرم کا پرچہ کیا اور دو ماہ بعد فائنل کا بھی۔ وہی پینسٹھ نمبر آئے۔
انہی دنوں ہم نے سینئرز کو فیئر ویل دیا تو سٹیج کی ڈیکوریشن دیکھ کر کافی خوش ہوئے ۔ نہ صرف خوش ہوئے بلکہ اسے مغل اعظم اور دیوداس کے مماثل ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ۔ان کی عادت تھی کہ جب بھی کسی پر مہربان ہوتے،اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے۔ مبالغہ آرائی کو تقریر کا حسن سمجھتے تھے چنانچہ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ غیر ارادی طور پر اپنے ممدوح کو لطیفہ بنا بیٹھے۔
ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جو میرٹ کی بجائے فیاضی پر یقین رکھتے تھے۔ان کی خواہش تھی کہ ان سے جھک کر مانگا جائے ، حق کی بات نہ کی جائے۔اس سے ان کی انا کو تسکین ملتی تھی ۔ چاہتے تو ایک عمدہ استاد بھی بن سکتے تھے کیونکہ ان کے پاس ابلاغ کی غیر معمولی صلاحیت تھی، لیکن اچھا استاد بننا کبھی ان کی ترجیح نہیں رہا۔ان کا آئیڈیل ایک پی آر او تھا، جو کسی بھی طرح طاقت کے مراکز سے جڑا رہے۔ غالباً اسی فن کا اعجاز تھا کہ شعبہ صحافت کو دو کمروں کی حدود سے نکال کر ایک علیحدہ بلڈنگ میں لے گئے، جہاں ایف ایم ریڈیو، ٹی وی سٹوڈیو، آڈیٹوریم اور ایمفی تھیٹر جیسی تمام جدید سہولیات موجود تھیں۔
تیسرے سمسٹر کے آخری دنوں میں کریم ملک صاحب ریٹائر ہو گئے ۔ ایک آدھ سال یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز آفیسر رہے۔ پھر وائس چانسلر نے جواب دے دیا تو لاہور کی کسی پرائیویٹ یونیورسٹی میں تعینات ہو گئے، جہاں سے کچھ مہینوں بعد ان کےانتقال کی خبر آئی۔ان کے جانے کے بعد پتا چلا کہ میں ان سے محبت کرتا تھا، مگر کبھی اس کا اظہار نہیں کر پایا کیونکہ مجھے اندیشہ تھا وہ محبت اور خوشامد میں فرق نہیں کر پائیں گے ۔ انہوں نے کبھی کسی کو فیل نہیں کیا، بہت لوگوں کو ایکس پیل ہونے سے بچایا، کئی ضرورت مند طلباء و طالبات کی مدد کی، لیکن اس کے باوجود وہ میرے رول ماڈل نہیں بن پائے کیونکہ میں ایک ایسے سماج کا خواب دیکھتا ہوں ، جہاں محسنوں اور کرم فرماؤں کی بجائے دوستوں اور استادوں کی فراوانی ہو اور جہاں میرٹ اتنا واضح ہو کہ کسی کو بھی نیازمندی کی ضرورت نہ پڑے ۔
کبھی کبھار سوچتا ہوں ان کی موت کا منظر بڑا عجیب ہوگا۔ مرنے سے ذرا پہلے انہوں نے ایک طویل قہقہہ لگایا ہوگا اور ”اینی ویز“ کہہ کر کسی اجنبی جہان کی طرف چل پڑے ہوں گے۔ یہ بھی نہیں معلوم وہ جس جہان میں گئے ہیں، وہاں کسی پی آر او کی ضرورت ہے بھی یا نہیں ؟









