تحریکِ انصاف کی انتخابی بائیکاٹ حکمت عملی سیاسی طور پر غیر دانشمندانہ اور متضاد ہے

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

سیاسی حکمت عملی میں تسلسل، موجودگی اور عوامی رابطہ ضروری ہیں، مگر تحریکِ انصاف نے عمومی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور صرف لاہور اور ہری پور میں ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر تضاد ظاہر کیا ہے۔ تاریخ میں سیاسی رہنما، جیسے بینظیر بھٹو، بارہا کہہ چکی ہیں کہ سیاسی خلا مخالفین کو فائدہ دیتا ہے اور نئے کھلاڑیوں کو ابھرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انتخابات سے گریز کرنے سے تحریکِ انصاف اپنی سیاسی اہمیت کھو سکتی ہے، حریفوں کو مواقع مل سکتے ہیں اور تنظیمی اثر و رسوخ متاثر ہو سکتا ہے۔

ٹوئٹر

ان کی سٹریٹ پر موجودگی کمزور ہے، احتجاج زیادہ تر سوشل میڈیا تک محدود ہیں، اور کے پی کے کے باہر تنظیمی اثر و رسوخ تقریباً نا موجود ہے۔ تحریکِ انصاف قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلیوں میں مؤثر اپوزیشن کے طور پر اپنی جگہ قائم نہیں کر سکی۔ قانون سازی، حکمرانی اور پارٹی تنظیم توقعات کے مطابق نہیں ہیں، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا ہی بنیادی سیاسی سرگرمی کا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ ایسے حالات میں انتخابات میں حصہ لینا ضروری ہے تاکہ سیاسی اہمیت ظاہر کی جا سکے اور حکومت کو چیلنج کیا جا سکے۔

ویب سائٹ

انتخابات میں حصہ لے کر تحریکِ انصاف کم از کم حکومت پر دباؤ ڈال سکتی ہے، سیاسی موجودگی دوبارہ قائم کر سکتی ہے، اور عوامی حمایت حاصل کر سکتی ہے۔ اگرچہ انتخابات مکمل طور پر منصفانہ نہیں ہوتے، یہ اپوزیشن کی شرکت اور عوامی طاقت کے مظاہرے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ دو نشستوں میں انتخابی حصہ لینا جبکہ باقی انتخابات سے گریز کرنا حکمت عملی میں تضاد ہے اور طاقت کے مؤثر اظہار کی صلاحیت کم کر دیتا ہے۔

یوٹیوب

معقول سیاسی حکمت عملی شرکت پر مبنی ہوتی ہے، نہ کہ انتخابی طور پر جزوی مداخلت پر۔ تحریکِ انصاف کا موجودہ رویہ تضاد اور سیاسی طور پر غیر دانشمندانہ ہے، اور صرف تسلسل کے ساتھ انتخابی شرکت ہی ان کی ساکھ بحال کر سکتی ہے، اہمیت ظاہر کر سکتی ہے، اور حکومت کو مؤثر طور پر چیلنج کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

فیس بک

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos