‏پنجاب کی شاطر بیوروکریسی اور استحکام پاکستان پارٹی

[post-views]
[post-views]

تجزیہ

پاکستانی بیوروکریسی سے شاطر اور موقع پرست شاید ہی کوئی پبلک ہیومن ریسورس ہو۔ چھ ماہ پہلے بیوروکریسی پرویز الٰہی سے پوسٹنگ لینے کی لابنگ کر رہی تھی۔ پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد جیسے ہی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنا وفاقی سٹاف افسر پنجاب میں بطور پرنسپل سیکرٹری ٹو چیف منسٹر تعینات کروایا تو پنجاب بیوروکریسی ن لیگ کے عمائدین سے پینگیں بڑھانے لگی۔ کیونکہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی پیپلز پارٹی کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں، اس لیے اپنی مرضی کے بیوروکریٹس لگوانے کے لیے پیپلز پارٹی کی بھی کچھ نہ کچھ شنوائی ضرور ہوتی رہی ہے۔

پنجاب میں سب سے اہم بیوروکریسی وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسکے بعد گورنر سیکریٹریٹ اور چیف سیکرٹری سیکریٹریٹ کا درجہ آتا ہے۔ تاہم سب سے منافع بخش پوسٹنگ میں اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور ڈیپارٹمن ٹل سیکرٹری شامل ہیں۔ فیلڈ پوسٹنگ اس لیے بھی اہم ہوتی ہے کہ سیاستدانوں کے حلقہ جاتی سیاسی مفادات ان افسران سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے سیاستدانوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ انکے پسندیدہ اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز تعنیات کیے جائیں ۔ دوسری طرف بیوروکریٹس کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سیاست دانوں سے منسلک رہ کر نہ صرف منافع بخش پوسٹنگ حاصل کریں بلکہ اپنے مالی و بیوروکریٹک مفادات کا بھی تحفظ کریں۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

تاہم غیر متوقع طور پر استحکام پاکستان پارٹی کے وجود میں آنے سے پنجاب کی بیوروکریسی نے کروٹ لی ہے اور متعلقہ پارٹی کے سیاستدانوں سے رابطے استوار کر لیے ہیں تاکہ منافع بخش پوسٹنگ حاصل کر کے اپنے اور متعلقہ سیاستدانوں کے مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان میں سیاست دانوں سے جلدی بیوروکریٹس اپنا رنگ بدلتے ہیں۔ اس لیے بیوروکریٹس کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ یہ کبھی بھی قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ ہوا ہے کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کے سیاستدان چیف منسٹر سیکریٹریٹ، لاہور پر براجمان ہونے کے در پر ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب وفاقی افسر ہونے کی بنا پر شہباز شریف سے ہدایات لیتے ہیں، اس وجہ سے ن لیگ کا پلڑا بھاری ہو گا۔ نگران وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی کے طرف دار ہیں ، اس لیے پیپلز پارٹی بھی اپنے بیوروکریٹس تعنیات کروائے گی۔ تاہم غیر متوقع طور پر استحکام پاکستان پارٹی سب سے ذیادہ مضبوط دکھائی دے رہی ہے کہ اس کے سیاستدانوں کو چیف منسٹر سیکریٹریٹ تک سب سے ذیادہ رسائی حاصل ہو تاکہ وہ مطلوبہ تعداد میں بیوروکریٹس تعنیات کروا سکیں۔ اب بیوروکریسی کا بھی امتحان ہے کہ وہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی میں سے کس پارٹی کے سیاستدانوں کے در کا انتخاب کرتی ہے۔

رپبلک پالیسی کا ماہ جون کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

آخر میں بیوروکریسی کا ادارہ تباہی کے دہانے کے قریب ہے۔ میرٹ اور شفافیت معدوم تصورات ہیں۔ عوامی مسائل اور انکا حل بیوروکریسی کی ترجیح نہیں ۔ لہذا پنجاب کی موجودہ بیوروکریسی سے گڈ گورننس اور سروس ڈیلیوری کی توقع رکھنا محض خام خیالی ہی ہو گا۔ انکا سارا فوکس ہر لمحہ منافع بخش پوسٹنگ کے حصول کے طریقہ کار پر ہی مرکوز رہتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos