رہا گر کوئی تا قیامت سلامت

مرزا غالب کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے ہیں اوربڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے ہیں۔ مرزا غالب کی شاعری قارئین کو خوبصورت شاعری کی مدد سے اپنے اندرونی احساسات کا اظہار کرنے دیتی ہے۔

غالب ؔکی اولین خصوصیت طرف گئی ادا اور جدت اسلوب بیان ہے لیکن طرفگی سے اپنے خیالات، جذبات یا مواد کو وہی خوش نمائی اور طرح طرح کی موزوں صورت میں پیش کرسکتا ہے جو اپنے مواد کی ماہیت سے تمام تر آگاہی اور واقفیت رکھتا ہو۔

رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت

جگر کو مرے عشق خوں نابہ مشرب
لکھے ہے خداوند نعمت سلامت

علی الرغم دشمن شہید وفا ہوں
مبارک مبارک سلامت سلامت

نہیں گر سر و برگ ادراک معنی
تماشاۓ نیرنگ صورت سلامت

دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ
دل و دست ارباب ہمت سلامت

نہیں گر بہ کام دل خستہ گردوں
جگر خائی جوش حسرت سلامت

نہ اوروں کی سنتا نہ کہتا ہوں اپنی
سر خستہ دشوار وحشت سلامت

وفور بلا ہے ہجوم وفا ہے
سلامت ملامت ملامت سلامت

نہ فکر سلامت نہ بیم ملامت
ز خود رفتگی‌ ہائے حیرت سلامت

رہے غالبؔ خستہ مغلوب گردوں
یہ کیا بے نیازی ہے حضرت سلامت

Please, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos