اہندوتوا بیانیے کے تحت ایودھیا میں رام مندر کی تقریب: اقلیتوں میں بڑھتی تشویش

[post-views]
[post-views]

بھارت میں ہندوتوا بیانیے اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے نئی بحث شدت اختیار کر گئی ہے، خاص طور پر ایودھیا میں رام مندر پر آر ایس ایس کا جھنڈا لہرانے کی حالیہ تقریب کے بعد، جسے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ ان کے مطابق رام مندر کی تعمیر اور بابری مسجد کی شہادت کو سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور اسے ایک قومی جشن کے رنگ میں پیش کر کے مذہبی اقلیتوں کے جذبات کو نظر انداز کیا گیا۔ مزید الزام لگایا جاتا ہے کہ رام مندر کا قیام آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریاتی اثرات کے تحت ممکن ہوا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کا یہ موقع بھارت کی ثقافتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسے “نئے دور کی شروعات” قرار دیتے ہوئے کہا کہ رام مندر 140 کروڑ بھارتی شہریوں کے لیے قومی فخر کی علامت ہے۔

تاہم بھارت کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقے اس پیش رفت کو مذہبی اقلیتوں میں تشویش پیدا کرنے والا عمل قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی پولرائزیشن اور ہندوتوا سوچ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے، اور یہ عمل سماجی ہم آہنگی کے لیے چیلنج بن رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos