پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایسے پوشیدہ پرواز والے میزائل تیار کرنا شروع کر رہا ہے جو ریڈار پر کم نظر آتے ہیں اور آئندہ صیہونی ریاست کے ساتھ ممکنہ جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق میجر جنرل پاک پور نے بتایا کہ حالیہ ایران، اسرائیل جھڑپ کے دوران امریکا اور اسرائیل کو یہ غلط فہمی تھی کہ اگر وہ ہمارے چند اہم کمانڈرز کو نشانہ بنا دیں گے تو ہمارے پورے دفاعی ڈھانچے اور کمانڈ سسٹم کو نقصان پہنچے گا، مگر یہ اندازہ درست ثابت نہ ہوا۔ ایران نے بھرپور نظم و ضبط کے ساتھ اپنے نظام کو چلایا۔
انہوں نے کہا کہ 12 روز تک جاری رہنے والی اُس جنگ میں پاسداران انقلاب کے داغے گئے میزائلوں، جن میں جدید، ریڈار سے بچ کر حملہ کرنے والے ہتھیار بھی شامل تھے—نے سب سے نمایاں اور مؤثر کردار ادا کیا اور دشمن کو غیر متوقع دباؤ میں رکھا۔
کمانڈر پاک پور نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اُس جنگ میں سامنے آنے والی اپنی کمزوریوں اور تکنیکی خامیوں کو دور کرنے پر مسلسل کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، ایران اب ٹیکنالوجی، حکمت عملی اور دفاعی تیاری کے لحاظ سے اس قابل ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ دشمن کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔









