یوکرین میں مغربی فوجی موجودگی روس کے لیے ناقابل قبول

[post-views]
[post-views]

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے واضح کیا ہے کہ یوکرین میں مغربی ممالک کی فوجی موجودگی روس کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین میں تعینات کوئی بھی غیرملکی فوجی روس کے لیے قانونی طور پر جائز ہدف تصور کی جائے گی، اور اس سلسلے میں کوئی رعایت یا استثنیٰ نہیں ہوگا۔

زخارووا نے برطانیہ کی جانب خاص طور پر اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کے مؤقف کے باوجود لندن یوکرین میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھانے کی بات کر رہا ہے، تاہم روس اس کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق یوکرین میں غیرملکی افواج کی موجودگی کشیدگی میں اضافہ اور خطے میں غیرضروری خطرات پیدا کر رہی ہے۔

مزید برآں، روسی ترجمان نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ گرین لینڈ کے حوالے سے غیر حقیقی دعوے اور مبالغہ آمیز بیانات دینا بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ روس اور چین گرین لینڈ کی صورتحال کو کشیدہ کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ زخارووا کے مطابق مغرب کی یہ پراپیگنڈا ٹیکنیک عالمی سیاسی توازن کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور اس سے خطے میں غیر ضروری تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس خطے میں مغربی فوجی سرگرمیوں کو سختی سے رد کرتا ہے اور اپنی سرحدی سلامتی اور جغرافیائی اثرورسوخ کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کے فوجی اقدامات کو جائز سمجھتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos