صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا عالمی یوم تعلیم کے موقع پر پیغام

[post-views]

[post-views]

تعلیم انسانی ترقی کا ایک اہم عصر اور پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اس کا کسی بھی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی سے گہرا تعلق ہے۔ انسانی وسائل میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کے بغیر کوئی بھی ملک پائیدار اقتصادی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ شرح خواندگی تعلیم کی سطح کو ماپنے کا ایک اہم اعشاریہ ہے۔ تعلیم ترقی کا ایک طاقتور محرک ہے اور غربت کم کرنے، اور صحت، صنفی مساوات ، امن اور استحکام یقینی بنانے کے مؤثر ترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ تعلیم کے آمدنی پر بڑے اور مستقل اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور یہ مساوات اور شمولیت یقینی بنانے کیلئے بھی سب سے اہم عنصر ہے۔ تعلیم افراد کے لیےر وزگار اور صحت میں بہتری اور غربت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ معاشروں میں تعلیم کی بدولت طویل مدتی اقتصادی ترقی ، جدت اور اختراعات فروغ پاتی ہیں، ادارے مضبوط ہوتے ہیں، اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے تعلیمی نظام کو تمام قومی مقاصد کے حصول کیلئے ایک اہم محرک تصور کرتے تھے۔ کراچی میں ہونے والی پہلی قومی تعلیمی کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ نظام تعلیم پاکستان کی قومی امنگوں کے مطابق کام کرے گا اور اس کا پاکستانی عوام کی ضروریات سے حقیقی معنوں میں تعلق ہوگا۔ اس وقت نوجوان نسل اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے اور بہت سے نو جوان ترقی یافتہ ممالک میں ایک روشن اور خوشحال مستقبل کی خاطر پاکستان کو چھوڑ رہے ہیں۔ ہمیں ان کو قابل قدر تعلیم فراہم کرنے اور اپنے کیرئیر میں سبقت حاصل کرنے کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اسکول سے باہر بچوں کے داخلوں میں اضافے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

آج کے دن ، پاکستان تمام بچوں کو اسکولوں تک رسائی فراہم کر کے 2030ء کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کے تحت شرح خواندگی میں اضافہ کرنے کا عزم کرتا ہے۔ ہم اس بات کا بھی عہد کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نوجوانوں کو باعزت روزگار حاصل کرنے کے قابل بنائیں گے، انہیں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق قابل قدر مہارتیں فراہم کریں گے اور نظام تعلیم میں بہتری لائیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos