سرکاری اداروں کے ذمہ واجب الادا بجلی کے بل

[post-views]
[post-views]

یہ انکشاف ہو ا ہے کہ سرکاری اداروں پر بجلی کے 71.519 بلین روپے کےبل واجب الادا ہیں، یہ پاکستان کی حالت زار کی مایوس کن عکاسی ہے۔ شہری ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ریکارڈ توڑ مہنگائی اور بجلی کے مہنگے بلوں سے نبردآزما ہیں جن کی ادائیگی کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔دریں اثناء وفاقی، صوبائی اور آزاد کشمیر کی حکومتیں اپنے اداروں کے ساتھ مل کر اپنے بلوں میں نادہندہ رہی ہیں اس کا  خمیازہ بھی عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ اس سے عوام کے اعتماد کو کتنا نقصان پہنچے گا اس کا اندازہ شایدہی کوئی لگا سکتا ہے۔

ہم نے ایک سخت مالیاتی اسکیم شروع کی ہے جس کا مقصد نقصانات کی وصولی اور آمدنی کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے تاکہ معیشت چلتی رہے۔ عام توقع یہ ہے کہ عوام ان اقدامات کی تعمیل کریں گے، چاہے وہ ان سے متفق ہوں یا نہ ہوں۔ یہ ان اداروں کے لیے کیسا انصاف ہے جو پالیسیاں مسلط کرتے ہیں اور اپنے بل ادا نہیں کرتے ہیں۔ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ کل واجبات 71 ارب روپے سے کیسے بڑھ گئے؟

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

حکومت کو امن و امان کا نمائندہ سمجھی جاتا ہے اور اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ہماری حکومتیں قابل قبول معیارات پر پورانہیں اُتر رہی ہیں۔یہ خوش آئند ہےکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے کہا ہے کہ صرف احتساب نہیں بلکہ شفافیت کو بھی دیکھنا ہو گا۔ اتنی بگڑتی صورتحال میں یہ بیان اطمینان بخش ہے۔ صرف یہ اقدام نادہندگان اور بجلی چوروں کے خلاف ملک گیر پابندی کی کچھ ساکھ کو بحال کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کو ان سوالات کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے جو بلاشبہ عوام پوچھیں گے۔

سب سے بڑی ڈیفالٹر آزاد کشمیر حکومت ہے، اس کے بعد اسلام آباد، راولپنڈی، چکوال، اٹک اور جہلم سرکل کے سرکاری ادارے ہیں۔ درحقیقت، خبروں کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ بھی نادہندہ پائے گئے ہیں۔ اتنا بڑا ڈیفالٹ ایک ماہ سے نہیں کئی مہینوں میں ہوا ہے۔ اس سے یہ سوال مزید اٹھتا ہے کہ اس پر پہلے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ اوسط پاکستانی اپنی بجلی کی سپلائی سے محروم ہو چکے ہوں گے، اس کے اوپر تاخیر سے ادائیگی پر جرمانے کا بوجھ ڈالا جائے گا لیکن ایسا لگتا ہے کہ ریاستی اداروں پر وہی معیار لاگو نہیں ہوتے۔

اس مشکل وقت میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا بالکل ضروری ہے، اور اس طرح کے واقعات سے شہریوں کو مزید مایوسی ہو گی۔ ہمیں احتساب، شفافیت اور قوانین کی پاسداری کی ضرورت ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos