جوہری مذاکرات کے بعد فوجی کشیدگی کے خدشات برقرار، ایران کا مؤقف

[post-views]
[post-views]

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام کے بعد ایران نے اعلان کیا ہے کہ معاہدے کے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں مذاکرات کے بعد کہا کہ امریکا کے ساتھ انتہائی سنجیدہ بات چیت ہوئی ہے اور معاہدے کے لیے راستہ کھل گیا ہے، تاہم کچھ امور پر اختلافات ابھی باقی ہیں۔

مذاکرات میں امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ میزائل پروگرام پر بھی بات چیت کی خواہش ظاہر کی، لیکن ایران نے واضح کیا کہ وہ صرف جوہری سرگرمیوں پر پابندی کے بدلے پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر بات کرے گا اور جوہری توانائی مکمل طور پر ختم کرنے کی شرط قبول نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکا اسلامی جمہوریہ ایران کو تباہ نہیں کر سکتا، اور ایرانی دفاعی طاقت اتنی مضبوط ہے کہ امریکا کو مؤثر نقصان پہنچا سکتی ہے۔

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن سفارت کاری کے کامیاب نتائج دیکھنا چاہتا ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور بین الاقوامی تصدیق کے لیے تیار ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کے خدشات بھی موجود ہیں، جس سے عالمی سطح پر تعلقات اور سلامتی کے امور پر سنجیدگی بڑھ گئی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos