سر! آپ بھی انٹرسٹ نہ لیا کریں

The President, Association of Administrative Federalism regrets that the appointment of CS and IG by the Federal government is unconstitutional.



دنیا کا سب سے آسان کا م کسی کی تو ہین کرنا اور دنیا کا سب سے مشکل کام کسی کو اپنی تو ہین صدق دل سے معاف کرنا ہے۔ انسان کا بڑا پن یہ ہے کہ کسی کو چھوٹانہ سمجھے اور اگر کوئی خود کو اُس سے چھوٹا سمجھ رہا ہو تو اُس کو اپنے سے بہتر نہیں تو کم از کم اپنے برابر کرنے کی پوری کوشش ضرور کرے ۔ کسی کو چھوٹا سمجھنا بہت آسان ہے تو کسی چھوٹے کو سمجھانا اگر چہ بہت مشکل ہے ، مگر ہماری بنیادی ذمہ داری ہے ۔ افسوس ہم میں سے زیادہ تر لوگ اصلاح کرنے کی بجائے دو سروں کا مورال تباہ کرنے میں زیادہ دلچسپی ر کھتے ہیں۔ ہم کسی کی غلطی بتاتے کم اور جتاتے ز یادہ ہیں۔ اگر کوئی آدمی غلطی کر بیٹھے اور ہمارے ہتھے چڑھ جائے تو ہم اس کے ساتھ ویسا ہی سلو ک کرتے ہیں جو غلطی سے بارڈر کر اس کرنے و الوں کے ساتھ انڈین یا اسرائیلی فورسز کرتی ہیں ۔ بہت سے لوگ طنز کرنے کے معاملے میں ہمیشہ فراغ دل ثابت ہوتے ہیں ۔

ہمارے ایک سینئر ڈاکٹر تھے جو خواتین کی نظر میں اپنا مقام بلند کر نے کیلئے اپنے تمام جونیئر ز کو نیچے دکھانے کے چکر میں لگے رہتے تھے۔ ایک دن ایک جونیئر کے ساتھ لیڈی ڈاکٹر ز کو ہنستا دیکھ کر دل پر لے گئے اور اُن پر شدید غم و غصے کی کیفیت طاری ہو گئی اپنی خفت مٹانے کیلئے انہوں نے ایک جونیئر ڈاکٹر سے غیر متعلقہ سوالات پوچھنا شروع کرد ئیے ،جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہو ں نے نوجوان ڈاکٹر سے کہا کہ” ڈاکٹر صا حب ! آپ انٹرسٹ نہیں لیتے ” : ” آپ بالکل انٹرسٹ نہیں لیتے”۔ جونیئر ڈاکٹر نے دو تین بار اُن کی بات سنی ان سنی کرنے کی کوشش کی مگر وہ ڈھٹائی سے اپنا جملہ دہراتے رہتے ۔ آخر تنگ آ کر متاثر ہ نو جوان کہنے لگا سر ! میں اچھا کرتا ہوں جو انٹرسٹ نہیں لیتا، کوئی بھی اچھا مسلمان انٹر سٹ نہیں لیتا۔ آپ کو بھی انٹرسٹ نہیں لینا چا ہیے اور اس وقت آپ جس طرح کا انٹرسٹ لے رہے ہیں وہ تو آپ کی عمر میں بالکل نہیں لینا چاہیے ۔ ایسے انٹرسٹ سے لوگوں کا انسانیت پر ٹرسٹ ختم ہو جاتا ہے۔

Pl, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

ایک اور صاحب کافی عرصہ جو نیئر رہنے کے بعد یکدم تھوڑے ہی عرصے میں پے در پے دو گریڈ کی ترقی پاگئے ۔ساری عمر بنیادی تشکیل میں ماتحتی کرنے کے بعد یکدم ان کو اپنی عظمت کا احساس ہوا اور اُن کو اندازہ ہوا کہ اُن کی ذات قابل تقلید ہے وہ ہر معاملے کی انجام دہی کیلئے بہترین مثالیں قائم کر چکے ہیں۔ لوگ مگر اُن کے علم ، تجر بے اور ذہانت سے فا ئدہ نہیں اٹھا ر ہے ۔ یہ احساس ہوتے ہی وہ اپنے آپ کو کسوٹی مان کر نصیحتوں کا پلندہ پکڑ کر بیٹھ گئے اور جونیئر ز کو بات بے بات اپنی سنہری مثال دے کر شرمندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جا نے نہیں دیتے تھے۔ اُن کیلئے یہ ثابت کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا کہ اس وقت دنیا میں موجود واحدقابل انسان وہ خود ہیں۔

ایک دن جب وہ ماتحتوں سے اپنی تعریف سن کر ،ماتحتوں کی خوش قسمتی پر ناز کر رہے تھے تو ایک جونیئر اُن سے کہنے لگا سر! آپ میں دنیا کی ہر خوبی موجود ہے۔ میں گنوانا چاہوں بھی تو کبھی گنوا نہ سکوں ، مگر میر ے خیال میں آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کسی کی غیبت نہیں کرتے اس کی واحد وجہ میری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ آپ ہر بندے کو منہ پر ہی اتنا شرمندہ کر دیتے ہیں کہ غیبت کر نے کی گنجائش ہی نہیں رہتی یہ ہنر اور کسی میں کہا ں۔ ہمارے ہاں بسا اوقات ہر حص پیدائشی نقاد ہے۔ دوسرے پر ہر طرح کی تنقید کرنے میں مکمل آزاد ہے۔ دوسروں کو شرمندہ کر کے شاد باد ہے۔ اس کو کوئی پرواہ نہیں کہ اب کسی کا مورال عمر بھر کیلئے برباد ہے۔ ایسے تمام بھائیوں سے میری ایک ہی فریاد ہے۔ دنیا فقط پیار کے دم سے آباد ہے ۔ تنقید کرنا چھوڑیں ، پیار کرنا شرو ع کریں ۔ ہمارے ہاں چائے کے کھوکھے والا اپنی چائے بھلے “کور” کرے نہ کرے انضمام کے “کور “ڈرائیو سے لے کر ٹیوٹا کرولا کی لونگ ڈرا ئیو تک تمام امور پر اتنی مہارت سے بات کرتا ہے کہ بندے کو اس کے اعتماد پر پیار آنے لگتا ہے۔ ہمیں حالات حاضرہ کے متعلق اُس کے علم پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر وہ چائے بنانا اور پلا نا بھی جانتا ہو تو اس میں بھی چنداں مضائقہ نہیں۔

Pl, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

یوسفی صاحب فرماتے ہیں کہ انہیں اس بات پر قطعاََ کوئی اعتراض نہیں کہ ہمارے ہاں لوگ بواسیر کا علاج راکھ سے کرتے ہیں ۔ انہیں اعترا ض اس بات پر ہے کہ اُن کے مریض ٹھیک ہو جا تے ہیں ۔مجھے بھی اس بات پر کبھی غصہ نہیں آیا کہ ہمارے ہاں لوگ ہر طرح کا مشورہ دینے میں قطعاََ دیر نہیں لگاتے ۔ ہمارے ہاں تمام افراد “اور پو چھوڈاٹ کام ” ہیں۔ کبھی کبھی اس بات پر دل ضرور دکھتا ہے کہ ہمیں ہر کام میں مہارت حاصل ہے سوائے اُس کام کے جو کام ہمارا اپنا کام ہے جس سے ہمارا روز گار اور عزت وابستہ ہے۔ اگر بندہ گاڑی کی مرمت کروانے چلا جا ئے تو مستری اسے اپنی ذاتی مرمت کے سونسخے بتا دیتا ہے ۔ آدمی کو ڈاکٹر اور حکیم کی محتاجی سے نجات مل جاتی ہے مگر گاڑی تین دن بعد دوبارہ ورکشاپ لانا پڑتی ہے ۔ بینک میں رکھی رقم پر انٹرسٹ لینا جائز ہے یا نا جائز ، اس بارے میں عالم حضرات ہی قوم کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ میر ے جیسا عاجز انسان اتنا بہر حال جانتا ہے کہ اپنے کام میں انٹرسٹ لینا نہ صرف پسندیدہ امر ہے بلکہ ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے کام میں مہارت حاصل کریں۔ اسلام کے مطابق ظلم کی ایک شکل اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام نہ د ینا ہے اور عدل یہ ہے کہ اپنا کام بہترین طریقے سے سرانجام دیا جائے۔ اگر ہم نے اپنے کام میں انٹرسٹ لینا چھوڑ دیا تو دنیا ہم پر ٹرسٹ کرنا چھوڑ دے گی۔ کسی کا انٹرسٹ کسی کے ٹرسٹ سے براہ راست وابستہ ہوتا ہے اللہ تعالی ہمیں انسانیت کی بہتری کیلئے انٹرسٹ لینے اور ایک دو سرے کے ٹرسٹ کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرما ئے ۔یہ ٹرسٹ ہی دنیا کا حسن ہے اور اس ٹرسٹ کو قائم رکھنا ہر انسان کا بنیادی فریضہ ہے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos