سوشل میڈیا اور احساس ذمہ داری

[post-views]
[post-views]

تحریر: شفقت اللہ مشتاق

جب سے ہم سوشلی ایکٹو ہوئے ہیں ہمیں زبردست ایکٹنگ کرنا پڑ رہی ہے اور ہر شخص ایکٹر محسوس ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں سوشل میڈیا نے دنیا میں دھوم مچا دی ہے۔ پریس میڈیا تو مکمل طور پر بے بس ہو گیا ہے اور الیکٹرک میڈیا بھی گہری سوچ میں گم ہو گیا ہے۔ بات سپیس دینے کی ہے پریس اور الیکٹرانک میڈیا کے رپورٹرز ہر کسی کو ناکوں چنے چبوا رہے تھے جبکہ سوشل میڈیا نے ہر کسی کو ویلکم کیا ہے اور اب سوشل میڈیا پر ہر کوئی ایک دوسرے کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے کوئی لطیفے، کوئی نوحے، کوئی گانے،کوئی ترانے،کوئی قرآن، کوئی نعت، کوئی قصے، کوئی تاریخ، کوئی فلسفہ،کوئی سائنس، کوئی کوئی بات سنا رہا ہے۔ سننے والے کم پڑ گئے ہیں۔ تاہم کوئی بڑے شوق سے سنا رہا ہے اور کوئی بڑے شوق سے سن رہا ہے۔ اس بین پر فی الحال تو پوری دنیا مست ہو چکی ہے۔ آنکھیں کھل گئی ہیں دماغ مکمل طور پر مصروف ہو چکا ہے اور مجموعی طور پر انسان سوچ کی دنیا کے مختلف حصوں میں محو پرواز ہے۔ سوچوں کا یہ شہباز اس وقت ہمہ تن گوش ہے اور کافی حد تک بے ہوش ہو چکا ہے جب اس کو جوش آئے گا تو پھر کھڑاک ہون گے۔ فی الحال لرننگ سٹیج ہے اور سٹیج پر ہر کسی کو کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ ہیرو ولن مہمان اداکار وغیرہ سب ایک ہی سٹیج پر ہوتے ہیں اور ہدایتکار کی مرضی اور منشاء  کے مطابق پلے کررہے ہوتے ہیں۔ پلے بوائے اور لائف بوائے میں کافی قدریں مشترک ہوتی ہیں دونوں انسان کو سست نہیں ہونے دیتے۔ ویسے بھی سست اور چست بھائی بھائی ہیں۔ صفات کے اعتبار سے دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔  سننے والے اور سنانے والے میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے۔ اس فرق کو اگر ہم مٹانا بھی چاہیں تو مٹا نہیں سکتے۔ کاش دنیا میں فرق مٹ جاتے تو کلاس سسٹم نہ ہوتا۔ کوئی بڑا چھوٹا یا کالا گورا نہ ہوتا۔ کوئی ظالم اور مظلوم نہ ہوتا کوئی افسر ماتحت نہ ہوتا۔ کوئی حاکم محکوم نہ ہوتا۔کوئی امام اور مقتدی نہ ہوتا کوئی مرد عورت نہ ہوتا خیر موخرالذکر کا استعمال قافیہ ردیف کا کمال ہے۔ مرد اور عورت سے ہی تو نسل انسانی کا ارتقاء  ہوا ہے۔ عورت کے وجود سے تصویر کائنات میں رنگ ہے۔ مرد اسی رنگ میں کھویا ہوا ہے۔ کیدو بھنگ ڈالنا بھی چاہے تو جوگ اپنا کردار ادا کرکے ولن کو ناکوں چنے چبوا دیتا ہے۔ ویسے تو آجکل مہنگائی نے سب کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔ اب تو چنوں کی بھی قلت ہو گئی ہے اسی لئے علت کا مکمل طور پر فقدان ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا زندہ باد۔ ہر چیز کا تیا پانچہ۔ صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے کے دن ہیں ایک دوسرے پر دھاک بٹھانے کے دن ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے دن ہیں۔ کاش نیچے دیکھنے کے دن آجاتے تو نظر بھی باوضو ہوجاتی اور انسان اپنی اوقات میں آجاتا۔ ہر چیز کے اوقات ہو نے چاہئیں اور اس کے پیش نظر ہم سب کو سوشل میڈیا کے استعمال میں انتہائی محتاط ہونا چاہیے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube & Press Bell Icon.

پہلے تولو پھر بولو۔ زبان سے نکلا لفظ کمان سے نکلے تیر کی طرح ہوتا ہے۔ تیر کی چبھن کا اندازہ کریں اور پھر بات کریں۔ آج کل سوشل میڈیا پر بات کرنے کا ہر کسی کو شوق ہے اور جس کا جو جی چاہتا ہے  وہ بات کر کے اپنا شوق پورا کرتا ہے۔ کلچر، ثقافت، سیاست،ریاست، معیشت، موسیقی، فلسفہ، منطق، سائنس، تصوف، اقوام، مذاہب اور پتا نہیں کیا کیا موضوعات میں ورائٹی جن پر لب کشائی کی جا رہی ہے اور نئے نئے چبوتروں پر پرچم کشائی کی جارہی ہے۔ کشور کشائی کا جب جنون ہو تو انسان کچھ بھی کہہ سکتا ہے،بلکہ کر سکتا ہے اور اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے کسی قسم کی موت مر سکتا ہے۔ آج کل کے رجحانات دیکھ کر سوچ بچار کرنے والے لوگ سکتہ کی کیفیت میں سے گزر رہے ہیں اور اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو ہم سب ویسے ہی گزر جائیں گے اور ع پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ۔ لوگ کتنے تحمل مزاج ہیں سب کچھ سنے جارہے ہیں۔جب اتنے سننے والے بیک وقت مل جائیں تو پھر سنانے والے کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، کیونکہ اس پر فوکس ہوتا ہے اس طرح اکثر بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے اور ایک محشر برپا ہو جاتا ہے۔ ہیجان، افراتفری، مایوسی، شور شرابہ، ہڑبونگ وغیرہ اور ع بندہ زمیں جن بد نہ جن بد گل محمد۔ گل کو محبوب سمجھنے والوں کو بالآخر خار سے پالا پڑتا ہے اور پھر دامن تارتار تو ہوتا ہی ہے لہولہان بھی ہو جاتا ہے۔ اس ساری صورت حال سے بچنے کا واحد حل ہے کہ زبان پر کنٹرول کیا جائے۔ پہلے بھی فرقے بڑے بن چکے ہیں۔ پہلے بھی مہنگائی نے جینا دو بھر کردیا ہے۔ پہلے بھی افق سیاست کا موسم انتہائی دگر گوں ہے۔ پہلے بھی تمام طبقات ایک دوسرے سے مکمل طور پر بدظن ہو چکے ہیں۔ پہلے ہی آبادی کو کنٹرول کرنے کے سارے مواقع ہم نے ضائع کر دیئے ہیں۔ مزید آنکھ جو کچھ دیکھ رہی ہے لب پر آ نہیں سکتا۔ 

گلوبلائزیشن نے تمام اقوام عالم کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کو غور سے دیکھنا شروع کر دیا ہے بلکہ گھورنا شروع کردیا ہے۔ آنکھیں نکال کر اپنے ہم جنسوں کو تراہ رہے ہیں۔ اوپر والا اس سارے منظرنامے کو بڑے غور سے دیکھ رہا ہے لیکن فی الحال خاموش ہے۔ خطرہ ہے کہیں کن نہ کہہ دے۔ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں،بلکہ ہاتھ باندھ کر معافی مانگتے ہیں اور ایک دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے آپس میں ہاتھ ملاتے ہیں اور بھائی چارے اور اخلاص کی فضا قائم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس اتنے بڑے کام کو کرنے کے لئے زبان کو لگام دینا پڑے گی اور سوشل میڈیا پر آکر اپنے کردار،افکار اور رویے سے یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ ہم نے ماضی کی تلخیوں کو بھلا دیا ہے۔ ہم نے دل کی کدورتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کردیا ہے۔ ہم نے اپنے قد کو اونچا کرنے کے لئے اونچا اونچا بولنے سے توبہ کر لی ہے۔ ہم نے اپنی دھرتی کے تابناک مستقبل کے لئے گفتار کی بجائے عمل کی عمارت تعمیر کرنا شروع کردی ہے۔ ہم نے فرقہ بندی کے گھوڑے سے اُتر کر مسلمانی کے راستے پر ہمہ تن گوش ہو کر چلنا شروع کردیا ہے۔ یوں ہم نے سجے کھبے سب کو پیغام دے دیا ہے کہ ہمارا قبلہ درست ہو چکا ہے لہٰذا سوشل میڈیا بھی اپنا قبلہ درست کر لے نہیں تو ہمیں میڈیا مینجمنٹ کے سلیبس میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔ آئیے اپنے آپ میں تبدیلی لا کر ایک نیا جہاں آباد کرتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos