سرحد پار دہشت گردی میں طالبان کا کردار

[post-views]
[post-views]

ارشد محمود اعوان

پاکستان طویل عرصے سے افغانستان سے آنے والے دہشت گرد حملوں کا شکار رہا ہے، مگر افغان طالبان نے ان خطرات کو زیادہ تر نظر انداز کیا ہے، جس کی وجہ سے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اسلامی ریاست-خراسان (آئی ایس-کے) جیسے گروپ سرحد پار آزادانہ کارروائی کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں حالیہ اجلاس میں، آئی ایس آئی ایل اور القاعدہ پر پابندیوں کی کمیٹی کے سربراہ ڈنمارک نے ٹی ٹی پی کو وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے ایک “سنگین خطرہ” قرار دیا اور بتایا کہ یہ دہشت گرد افغان حکام کی جانب سے “لازمی اور بنیادی امداد” وصول کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان پر بار بار سرحد پار حملوں پر زور دیا گیا، جبکہ آئی ایس-کے کو خطے میں ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے طور پر بیان کیا گیا جو افغان علاقے سے کام کر رہا ہے مگر طالبان کے مخالف ہے۔

ویب سائٹ

اسی فورم میں پاکستان کے نمائندے نے طالبان اور بھارت دونوں پر تنقید کی کہ وہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو فعال بنانے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروپ “اپنے میزبانوں کی سرپرستی میں ترقی کر رہے ہیں” اور انہیں “ہمارے اہم دشمن اور خطے میں غیر استحکام پھیلانے والے” کی حمایت حاصل ہے۔ اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کے خدشات اور طالبان کی جانب سے پاکستان کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کی پہچان کو اجاگر کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی نے وہی بات دہرائی جو پاکستان برسوں سے کہہ رہا ہے: افغان علاقے کو دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو پاکستان اور وسیع خطے کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ طالبان کے ردعمل میں انکار اور الجھانے کی کوشش شامل رہی، جیسے دعویٰ کرنا کہ ٹی ٹی پی کے افراد صرف “پاکستانی پناہ گزین” ہیں یا افغان زمین پر کوئی ٹی ٹی پی کا جنگجو موجود نہیں۔ تاہم، بین الاقوامی برادری ان دعوؤں پر شک کرنے لگی ہے اور طالبان کے نظرانداز کرنے والے رویے کی ساکھ کم ہو رہی ہے۔

یوٹیوب

پاکستان کا موقف واضح ہے: اگرچہ طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان نظریاتی اور عملی تعلق موجود ہے، یہ بالکل معقول ہے کہ کابل حکومت سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ پاکستان کے ساتھ تعمیری رابطہ ضروری ہے، نہ صرف دو طرفہ تعلقات کی حفاظت کے لیے بلکہ خطے میں مزید غیر استحکام سے بچنے کے لیے بھی۔ حالیہ استنبول امن مذاکرات نتیجہ خیز نہیں رہے، تاہم موجودہ جنگ بندی قائم ہے، جو بتاتی ہے کہ اگر دونوں فریق عملی اقدامات کریں تو تعاون ممکن ہے۔

اگر طالبان ٹی ٹی پی اور آئی ایس-کے کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو پاکستان کو ممکنہ طور پر سخت حفاظتی موقف اختیار کرنا پڑے گا، جبکہ کسی بھی تنازع سے گریز کرنا ضروری ہے جو عوامی تعلقات اور دو طرفہ تعاون کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں، ایک متوازن حکمت عملی ضروری ہے جو فوری حفاظتی خدشات کو حل کرے بغیر سفارتکاری کو خطرے میں ڈالے۔ پاکستان کی اسٹریٹجک صبر یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

ٹوئٹر

اگر کابل کے ساتھ دو طرفہ تعلقات مزید خراب ہوئے، تو خطے کے حریف ان اختلافات کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کے لیے اضافی سیکیورٹی چیلنج پیدا کر سکتے ہیں۔ لہذا سرحد پار دہشت گردی کے لیے رابطہ قائم رکھنا اور جوابدہی کو یقینی بنانا مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ جنوب اور وسطی ایشیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جو خطے کی سلامتی کے باہم تعلق کو واضح کرتے ہیں۔

آخر میں، پاکستان کا بین الاقوامی برادری کے لیے پیغام واضح ہے: افغان طالبان کو اپنی سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔ تعمیری تعاون، جنگ بندی کے معاہدوں کی پابندی، اور ٹی ٹی پی اور آئی ایس-کے کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے عملی اقدامات ضروری ہیں تاکہ مزید غیر استحکام سے بچا جا سکے۔ عالمی برادری کو خطرے کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔

فیس بک

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos