ٹرمپ کا دعویٰ: امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں دوبارہ فعال ہو سکتی ہیں

[post-views]
[post-views]

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں اگلے 18 ماہ کے اندر مکمل طور پر سرگرم ہو سکتی ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب 3 جنوری کی رات امریکی فوج نے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے تیل کے شعبے کو فعال کرنے کے لیے بڑی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جسے امریکی کمپنیاں کریں گی، اور بعد میں امریکی حکومت یا تیل کی آمدنی کے ذریعے واپس وصول کیا جائے گا۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق آئندہ چند دنوں میں امریکی حکومت اور بڑی تیل کمپنیوں کے نمائندوں کے درمیان اہم ملاقات متوقع ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق وینزویلا کی پیداوار کی مکمل بحالی میں 10 سال لگ سکتے ہیں اور سیاسی استحکام کے بغیر غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری سے گریز کریں گی۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر موجود ہیں، مگر بدانتظامی، پرانی تنصیبات اور بھاری نوعیت کے تیل کی وجہ سے پیداوار کم ہے۔ فی الحال صرف شیورون محدود پیمانے پر کام کر رہی ہے۔

ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کا دعویٰ ہے کہ وینزویلا نے امریکی تیل “چھین لیا”، تاہم ماہرین کے مطابق وینزویلا میں تیل ریاستی ملکیت ہے اور غیر ملکی کمپنیاں صرف لائسنس کے تحت کام کر سکتی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos