قازق ستان نے معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کر لی، ٹرمپ کا اعلان

[post-views]
[post-views]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ قازق ستان نے باضابطہ طور پر معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ کی ایک نئی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں وسط ایشیائی ممالک کے سربراہان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا گیا، جس میں قازق ستان کے صدر بھی شریک تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ان کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران قازق ستان معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے والا پہلا ملک ہے، جو عالمی امن اور علاقائی تعاون کی سمت ایک مثبت قدم ہے۔

صدر ٹرمپ نے قازق ستان کو ایک “شاندار ملک” اور “باصلاحیت قیادت رکھنے والی قوم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے دنیا میں تعاون، استحکام اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی مزید ممالک بھی اس معاہدے میں شمولیت اختیار کریں گے، جس سے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی بنیاد مستحکم ہوگی۔

یاد رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے ایک روز قبل عندیہ دیا تھا کہ ایک اور ملک معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں طے پایا تھا، جس کے تحت اسرائیل اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک — متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان — کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کیے گئے تھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos