واشنگٹن میں پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں خطرناک کشتیوں کو ڈبو دیا ہے۔ امریکا کا تیل صرف ایک فیصد اسی راستے سے جاتا ہے، جبکہ چین، جاپان اور دیگر ممالک کا زیادہ تر تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد کمی آئی ہے، 100 سے زائد ایرانی بحری جہاز تباہ ہو گئے، اور جزیرہ خارگ کے تمام فوجی اہداف ختم کر دیے گئے۔ ایران کی فوجی طاقت مکمل طور پر مفلوج ہو گئی ہے اور اب وہ صرف نام کی طاقت رہ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کے لیے امریکا کے ساتھ کئی ممالک اپنے جنگی جہاز بھیجیں گے۔ ایران کا دفاع ختم ہو چکا ہے، اور 44 ایرانی بحری جہاز ڈوب چکے ہیں۔ تیل کی تنصیبات کو فی الحال نقصان نہیں پہنچایا گیا، مگر ضرورت پڑنے پر مزید حملے ممکن ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران مذاکرات چاہتا ہے، لیکن امریکا ابھی تیار نہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام کو ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کے ذریعے دھچکا دیا گیا۔ انہوں نے ایرانی رجیم کے خاتمے کا بھی دعویٰ کیا اور کہا کہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایران نے واقعی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔









