امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر ملک میں جاری عوامی مظاہروں کے دوران مزید افراد ہلاک ہوئے تو واشنگٹن ‘شدید اور فیصلہ کن’ کارروائی کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے بڑھتے استعمال کو امریکہ بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
ایران میں احتجاج اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں مہنگائی، اقتصادی بحران اور ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ کے باعث عوام مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ شہری مختلف شہروں میں حکومتی پالیسیوں اور معاشی دباؤ کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایرانی حکام مظاہرین کو دبانے کے لیے طاقت یا عسکری اقدام جاری رکھتے ہیں تو اس کا واشنگٹن کی جانب سے سخت جواب ہوگا۔
یہ مظاہرے 28 دسمبر کو تہران میں تاجروں کی ہڑتال سے شروع ہوئے، جو بعد میں ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں انتظامی اہلکار بھی شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اپنی وسعت اور شدت کے اعتبار سے حالیہ برسوں کے سب سے بڑے مظاہروں میں شمار کیے جا رہے ہیں اور یہ 2022-2023 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی تحریک سے بھی زیادہ وسیع اثر رکھتے ہیں۔









